اِتنا آساں نہیں تیکها لکهنا
اور پھر شعر بھی اپنا لکهنا
تم بہُت دیر رہی ہو خاموش
اب تو بنتا ہے زیادہ لکهنا
وصل کو لالی لکهو ہونٹوں کی
ہجر کو آنکھ کا سرمہ لکهنا
سطر کو بیل لکهو خواہش کی
اور سنو پیڑ کو کاندھا لکهنا
ایک ٹھوکر سے زیادہ نہیں کچھ
شــہلاؔ ! کہسار کو جادہ لکهنا
( شــــہلاؔ شــــہناز )
0 تبصرے