Ticker

3/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

"مار نہیں پیار"کا سلوگن مذاق بن گیا۔روحانی باپ نے دوسری جماعت کے طالب علم کو بے تحاشہ تشدد کا نشانہ بنا کر سکول کی لیٹرین میں بند کر دیا

ریتڑہ(نامہ نگار)"مار نہیں پیار"کا سلوگن مذاق بن گیا۔روحانی باپ نے دوسری جماعت کے طالب علم کو بے تحاشہ تشدد کا نشانہ بنا کر سکول کی لیٹرین میں بند کر دیا۔بچہ شدید خوف زدہ سکول کے نام سے ہی کانپنے لگا۔ذمہ دار استاد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ریتڑہ کی نواحی بستی شیرووالہ کے رہائشی حاجی کریم نوازدرکھان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ میرا پوتا اسدا للہ ولد محمد رمضان گورنمنٹ پرائمری سکول شیرووالہ،احمد آباد میں دوسری کلاس میں زیرتعلیم ہے۔جہاں گذشتہ روز اس کے استاد نذر حسین کلاچی ولد خورشید احمد کلاچی نے سبق یاد نہ ہونے پر اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالااور بچے کے بے سدھ ہونے پر اسے گھسیٹ کر سکول کے ٹائلٹ میں بند کرکے باہر سے کنڈی لگا دی۔کافی دیر بعد جب متذکرہ استاد کہیں باہر گیا تو بچوں نے گھر والوں کو اطلاع کی جس پر وہ سکول آئے اور بچے کو ٹائلٹ سے نکال کر گھر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ جس وقت بچے کو گھر لایا گیا تو بچہ انتہائی خوف زدہ تھا خوف کی وجہ سے اس کاپاخانہ بھی کپڑوں میں نکل چکا تھا۔اس کے جسم پر ڈندوں کے نشانا ت واضح نظر آرہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بچہ اس قدر خوف زدہ ہو چکا ہے کہ اب اگر اس کے سامنے سکول کا نام ہی لیا جائے تو وہ کانپنے لگتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ استاد پہلے بھی کئی بچوں کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا چکا ہے۔لیکن علاقہ داری کی وجہ سے وہ لوگ خاموش ہو جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس سکول میں بہت کم بچے رہ گئے ہیں اور چند بچے ہی یہاں پڑھنے کیلئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت غریب اور مزدور پیشہ لوگ ہیں میرے بیٹا محمد رمضان بھی مزدوری کی غرض سے ملتان ہوتا ہے۔ہم اپنے بچے کو پرائیویٹ سکول میں تعلیم دلانے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے ، میری ای ڈی او ایجوکیشن ، ڈی سی او ڈیرہ اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ ذمہ دار کے خلاف سخت کا رروائی کی جائے اور انہیں انصاف دلایا جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے