ڈیرہ غازیخان(بیورورپورٹ)سرائیکی لوک سانجھ تنظیم کے زیرِ اہتمام سینیٹ میں سرائیکی زبان کی مخالفت پر درجنوں افراد کا احتجاجی مظاہرہ ،مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر شدید نعرہ بازی کی جب تک سینیٹ میں سرائیکی زبان کابل منظور نہیں ہو گا ہمار ا احتجاجی جاری رہے گاتفصیلات کے مطابق سرائیکی لوک سانجھ تنظیم کے زیر اہتمام ٹریفک چوک پراحتجاجی مظاہرہ کیاگیااس مظاہرے کی قیادت فضل رب لنڈ کررہے تھے مظاہرے میں محمد گلزار،عبدالخالق،محمد عامر ،نذرحُسین ،قدرت اﷲسمیت میں درجنوں افراد شریک تھے۔فضل رب لنڈ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے وفاقی اکائیوں کی زبانوں کو صوبوں کی زبان قرا ردینے سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظور ی دے دی تھی جس کے تحت پنجابی ، سندھی، پشتو اور بلوچی کو بالترتیب پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی زبانوں کو آئینی طورپر تسلیم کرلیا گیا ہے۔سات علاقائی زبانوں بشمول سرائیکی، ہندکواور براہوی کو قومی زبان کا درجہ دینے کے بل کو مسترد کردیا گیا ہے ہم اس بل کی مذمت کرتے ہیں سرائیکی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے ورنہ ہمار ااحتجاجی جاری رہے گا۔




0 تبصرے