Ticker

3/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ایک اور خاندان نے حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

ایک اور خاندان نے حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

ایک اور خاندان نے حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا مگر نہ زمیں کانپی اور نہ آسماں رویا اور نہ ہی وقت کے حکمرانوں کو شرم آئی اور نہ حیا
حاصل پور: میاں اور بیوی نے مل کر پہلے دونوں بچوں کو زہر دیا انکو مار کر خود بھی
زہر پی لیا. ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خاندان کرائے کےمکان میں رہتا تھا۔ میاں بیوی کام نہ ملنے کی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے مکان کا کرایہ نہیں دے سکے تھے۔ مکان مالک نے گھر خالی کرنے کا کہہ رکھا تھا۔ اوپر سے ماں جیسی ریاست کے آلہ کاروں نے 17500 روپے بجلی کا بل واپڈا والوں نے بھیج دیا۔ واپڈا اہلکار میٹر اتار کر لے گئے۔ بچوں نے دودھ لانے کی ضد کی تو حالات کے مارے میاں بیوی نے بچوں سمیت اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرلیا۔
حکمران ہیں کہ ہر لمحے اپنے آپ کو صادق و امین کہنے کے ساتھ ساتھ ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ جبکہ ریاست کے شہری آئے روز خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ پھر بھی ریاست مدینہ کے نام لیوا ان حکمرانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لوگوں کی خودکشیوں کا حوالہ دے کر سوال پوچھنے والے صحافیوں کو جواب ملتا ہے کہ "میں کیا کروں"
یہ ہیں وہ حوص کے پجاری حکمران جو لوگوں کو سبز باغ دکھا کر اور محلاتی سازشیں کر کے اقتدار میں آتے ہیں اور پھر اپنی تجوریاں بھرنے کا دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔ لوگوں کا خون چوس کر انہیں خودکشیاں کرنے کیلئے بےیارومددگار چھوڑ دیتے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے