ریتڑہ(نامہ نگار)دوسری جماعت کے طالب علم پر تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کے ذمہ دار معلم کوکارروائی سے بچانے کیلئے ملحقہ سکول کا زنانہ سٹاف میدان میں اتر آیا ۔اپنے سکول کے بچوں کو اس کے سکول میں منتقل کردیا۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری سکول شیرووالہ(احمد آباد) کے معلم نذر حسین کلاچی نے گزشتہ دنوں دوسری جماعت کے طالب علم اسد اللہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گھسیٹ کر سکول کی لیٹرین میں بند کردیا تھا۔ جس پر اسداللہ کے داد ا حاجی کریم نواز لنگاہ نے ارباب اختیار سے مذکورہ معلم کے خلاف کارروائی کیلئے درخواست گزاری تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ سکول میں معلم نذر حسین کلاچی کے آئے روز کے تشدد اور معاندانہ رویئے کے باعث سکول میں پڑھنے والے بچے سکول چھوڑ کر دوسرے سکولوں میں داخلہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس پر ملحقہ سکول جہاں مخلوط طریقہ تعلیم کے باعث وہاں کی معلمات نے نذر حسین کو بچانے کیلئے اپنے سکول کے بچوں کو گورنمنٹ پرائمری سکول شیرووالہ(احمد آباد) میں منتقل کردیا ہے جبکہ اس سکول کے بچوں کو دوسرے سکول میں بھیج دیا ہے۔ گورنمنٹ پرائمری سکول شیرووالہ(احمد آباد) میں دوسرے معلم کو جو پانچویں کلاس کو پڑھاتے تھے ان سے پانچویں کلاس لے کر نذر حسین کی دوسری جماعت کے پانچ لڑکے دے کر پڑھانے کے احکامات دے دیئے ہیں۔ متاثرہ طالب علم اسداللہ کے دادا حاجی کریم نواز لنگاہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ مذکورہ سکول میں کم تعداد کے باعث محکمہ تعلیم نے ملحقہ سکول ہیڈمسٹریس کو اس سکول کا بھی چارج دے دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سکول میں تعینات چاروں معلمات کا تعلق بھی دور دراز شہر تونسہ سے جس کے باعث وہ اکثر سکول لیٹ آتی ہیں یا چھٹی کر لیتی ہیں اس وجہ سے معلم نذر حسین کلاچی ان کی غیر حاضری اور دیر سے آنے کا چھپاتا ہے اس وجہ اب یہ معلمات نذر حسین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایسا کر رہی ہیں۔ حاجی کریم نواز لنگاہ نے ارباب اختیار سے آزادانہ انکوائری کرکے ذمہ دار معلم کے خلاف محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔




0 تبصرے