مظفرگڑھ ( محمد جواد بشیر سے )امہ ویلفئیر ٹرسٹ اور ہینڈز کی جانب سے ضلع مظفرگڑھ میں رمضان المبارک سے قبل معزور افراد میں راشن بیگز تقسیم کئے گئے ۔اس موقع پر معذور افراد اور سماجی کارکنوں نے امہ ویلفئر ٹرسٹ اور ہینڈز کی خدمات پر خوشی کا اظہار۔تفصیل کے مطابق امہ ویلفئر ٹرسٹ کے رضا کار پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ ضلع مظفرگڑھ کے شہروں دیہاتوں قصبوں سے تعلق رکھنے والے معذور افراد میں راشن بیگز تقسیم جاری کئے جس میں 10 کلو گرام اعلیٰ کوالٹی کے چاول، 5 کلو چینی، 5 کلو دالیں، 5 لٹر کوکنگ آئل جام شیریں، چائے کی پتی، نمک اور دیگر اشیائے خوردونوش کے تھیلے تقسیم کئے گئے ۔
ہینڈزکی ڈسٹرکٹ ہیڈ مس سعدیہ نواز نے کہا کہ امہ ویلفیر اج کے اس مہنگائی کے دور میں گھریلو معاونت میں مدد کرتے ہوئے جو خدمات پیش کر رہے ہیں اپنی مثال آپ ہیں امہ ویلفئر کے رضاکار بغیر کسی لالچ کے بے لوث خدمات میں مصروف ہیں انکی اس بے لوث خدمات پریہاں کے ہر طبقے کے لوگ اسے سراہا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انکی خدمات حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد تازہ کرادی جس طرح انہوں نے اپنے دور خلافت میں غرباء کوگھر گھر جا کر رات کے اندھیرے میں امدادی سامان جاکر تقسیم کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے پر فتن دور میں یو ۔کے سے امہ ویلفئر ٹرسٹ حضرت عمر فاروق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غریب اور مفلس لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اس موقع پر نیشنل پریس کلب سے محمد شیراز بشیر ، امہ ویلفیر سے آغا حسنین رضا، زاہدہ ،نادر، عرفان اللہ عاصم و دیگر بھی موجود تھے۔
ہینڈزکی ڈسٹرکٹ ہیڈ مس سعدیہ نواز نے کہا کہ امہ ویلفیر اج کے اس مہنگائی کے دور میں گھریلو معاونت میں مدد کرتے ہوئے جو خدمات پیش کر رہے ہیں اپنی مثال آپ ہیں امہ ویلفئر کے رضاکار بغیر کسی لالچ کے بے لوث خدمات میں مصروف ہیں انکی اس بے لوث خدمات پریہاں کے ہر طبقے کے لوگ اسے سراہا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انکی خدمات حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد تازہ کرادی جس طرح انہوں نے اپنے دور خلافت میں غرباء کوگھر گھر جا کر رات کے اندھیرے میں امدادی سامان جاکر تقسیم کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے پر فتن دور میں یو ۔کے سے امہ ویلفئر ٹرسٹ حضرت عمر فاروق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غریب اور مفلس لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اس موقع پر نیشنل پریس کلب سے محمد شیراز بشیر ، امہ ویلفیر سے آغا حسنین رضا، زاہدہ ،نادر، عرفان اللہ عاصم و دیگر بھی موجود تھے۔




0 تبصرے