وہوا: بیٹی کو قتل کرکے سسرالیوں نے خود کشی قرار دے دیا پچھلے ایک ماہ سے پوسٹمارٹم رپورٹ کے لیے دربدر ہیں تاحال نہ مقدمہ درج ہو سکا غریب کو کب انصاف ملے گا پچیس سالہ مقتولہ رخسانہ بی بی کے والدین انصاف کے منتظر
تفصیل کے مطابق وہوا کے نواحی علاقہ ڈگر والی کے رہایشی محمد رمضان کوٹانہ اور اسکی اہلیہ صدو مائی نے اعلی حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چھ سال قبل ان کی بیٹی رخسانہ بی بی کی شادی جلووالی کے رہایشی عنایت اللہ جوگی سے انجام پائی تھی شادی کے کچھ دن بعد سسرالیوں نے جھگڑا فساد معمول بنا لیا تھا اور آئے روز اسے گھر والے تشدد کا نشانہ بناتے تھے ۔پچھلے ماہ مورخہ 16/9 کو ہماری بیٹی رخسانہ بی بی کا بوقت عصر اس کا فون آیا کہ اسے گھر والے پچھلے دو روز سے بات بات پر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں مجھے آپ لوگ آئیں اور گھرلے جائیں ۔ہم اسی وقت اپنے گاؤں ڈگر والی سے میاں بیوی موٹر بیٹی کو لینے سائیکل پر روانہ ہوگئے جب ہم سفر کرتے بستی مندھریں کے قریب پہنچے تو ہمیں اسے کے سسرال سے فون آیا کہ آپ کی بیٹی نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی ہے جب ہم جلووالی اپنے بیٹی کے گھر پہنچے تو اس کے سب سسرال والے ایک چارپائی پر سوئی میری بیٹی کے ارگرد تمام لوگ جمع تھے ۔لیکن اس وقت میری بیٹی کے ہاتھ پاؤں گرم تھے ہم میاں بیوی نے اپنی بیٹی کو بے ہوش حالت میں ڈاکٹر کے پاس علاج معالجے پر لے گئے اسی دوران اس کے سسرالیوں نے ہسپتال لے جانے تک ہماری کوئی مدد نہ کی ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت بے ہوش حالت میں اپنی بیٹی کو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر ہسپتال لے آئے جہاں ڈاکٹر نے ہماری بیٹی کی مردہ ہونے کی خبر سنائی ۔جب کہ ہماری بیٹی خودکشی کرتی تو اس کے گلے میں رسی کے نشانات ہوتے اگر اس نے خود کشی کی تھی تو انہوں نے پولیس کو اطلاع کیوں نہ دی اور ہمارے وہاں پہنچنے سے قبل اسے پھندے سے کیوں اتارہ ۔اصل وجہ یہ ہے کہ نہ ہماری بیٹی نے پھندا گلے میں ڈالا نہ کہ اس نے کوئی خودکشی کی ہے ۔ان لوگوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب ہم نے اسے غسل دیا تھا اس کے جسم پر تشدد کے گہرے نشان اور ضربیں پائیں گئیں ان لوگوں نے مار مار کے ہماری بیٹی کو قتل کرڈالا جب ہم نجی ہسپتال پینچے تو پھر بعد میں پولیس آگئی جسے وہ پوسٹمارٹم کے لیے دوسرے ہسپتال لے گئی ۔اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود نہ ہمیں پوسٹمارٹم رپورٹ ملی ہے نہ ابھی تک تھانے مقدمہ درج ہو سکا
والدین محمد رمضان اور اس کی اہلیہ صدومائی نے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار چیف، جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار آئی جی پنجاب ڈی پی او ڈیرہ غازیخان سے ملزمان کے خلاف، فوری طور مقدمہ درج کرنے اور ان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے



0 تبصرے