Ticker

3/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

قندیل بلوچ قتل کیس ، مرکزی ملزم کی بریت، ریاست قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، ملیکہ بخاری

قندیل بلوچ قتل کیس ، مرکزی ملزم کی بریت، ریاست قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، ملیکہ بخاری

 

قندیل بلوچ قتل کیس ، مرکزی ملزم کی بریت، ریاست قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، ملیکہ بخاری

 

سوشل میڈیا  پلیٹ فارم  ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ ریاست قندیل بلوچ کیس میں قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔

 

غیرت کے نام پر قتل کو معاشرے پر سیاہ دھبہ قرار دیتے ہوئے، پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قانون میں خواتین کے قاتلوں کی سزا کو یقینی بنانے کے لیے ترمیم کی گئی ہے، چاہے قائل کوئی عام آدمی ہو یا کوئی با اثر اور مشہور شخصیت۔

 

خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن (این سی ایس ڈبلیو) نے بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

 

مقتولہ کے بھائی کی بریت وسیم کے وکیل سردار محبوب نے ڈان سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ ان کے موکل کو چھ سال سے کم قید کی سزا کاٹنے کے بعد ہی بری کر دیا گیا ہے۔

 

اانہوں نے بتایا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنی طاقت کا غلط طریقے سے استعمال کیا اور وسیم کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 311 کے تحت سزا سنائی جو دفعہ فساد فی الارض (زمین پر فساد) سے نمٹنے سے متعلق ہے، جبکہ اسے مقتول کے ورثاء نے معاف کر دیا تھا۔

 

دفعہ 311 عام طور پر اس وقت لگائی جاتی ہے جب کسی شخص کو متاثرہ فرد یا شکایت کنندہ کی طرف سے معاف کر دیا جاتا ہے۔

 

سردار محبوب کا مزید کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے وسیم کو اس کے اعترافی بیان کی بنیاد پر سزا سنائی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ استغاثہ کے تمام گواہ پولیس اہلکار تھے جو کہ قانون کے تحت قابل قبول نہیں۔

 

قندیل بلوچ قتل کیس غیرت کے نام پر قتل کا حالیہ برسوں کا سب سے ہائی پروفائل کیس بنا، ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کو مرد رشتہ داروں کی جانب سے مبینہ طور پر قابل شرم کام کر کے خاندان کی ساکھ نقصان پہنچانے کی وجہ سے مہلک سزائیں دی جاتی ہیں۔

 

قانون میں حالیہ ایک تبدیلی کے تحت مجرم اب سزا میں کمی کرانے کے لیے متاثرہ فرد کے خاندان سے معافی نہیں مانگ سکتا ، متاثرہ فرد کا خاندان بعض اوقات مجرم کا اپنا ہی خاندان ہوتا ہے۔

 

تاہم، قتل غیرت کے نام پر کیا گیا یا نہیں ، اس کا فیصلہ جج کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر قاتل اپنے بیان میں قتل کا مقصد غیرت کے نام پر قتل کرنے کے علاوہ کچھ اور بتاتا ہے تو پھر بھی اسے معاف کیا جا سکتا ہے۔

 

قندیل بلوچ قتل کیس میں ابتدا میں مقتولہ کے والدین نے اصرار کیا کہ ان کے بیٹے کو معافی نہیں دی جائے گی، لیکن بعد میں انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسے معاف کر دیا جائے، لیکن ٹرائل کورٹ نے والدین کے اس بیان کو نظر انداز کیا اور سزا کا فیصلہ سنایا۔

 

قندیل بلوچ کے قتل کے تین ماہ بعد پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا جس کے تحت غیرت کے نام پر قتل کے لیے عمر قید کی سزا لازمی قرار دی گئی۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد مقتولہ کے بھائی اور کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو بری کیا تھا۔

 

ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے مقتولہ کے قتل کے کیس میں راضی نامے کی بنیاد اور گواہوں کے اپنے بیانات سے منحرف ہونے پر مرکزی ملزم وسیم کو بری کیا تھا۔

 

ملک گیر شہرت کی حامل ماڈل قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے جرم میں ملزم وسیم کو 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

 

قندیل بلوچ قتل کیس میں وسیم کی جانب سے ایڈووکیٹ سردار محبوب نے ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے سامنے ملزم کی بریت سے متعلق دلائل پیش کیے تھے۔

 

مقتولہ قندیل بلوچ کے والد کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم نے اللہ کی رضا کی خاطر اپنے بیٹوں کو معاف کر دیا ہے، لہٰذا عدالت بھی اسے معاف کردے۔

 

قندیل قتل کیس کا پس منظر


یاد رہے کہ قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے 15 جولائی 2016 کو غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا۔ پولیس کے مطابق قندیل بلوچ کا بھائی ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کی وجہ سے ناراض تھا، جس پر وہ انہیں غیرت کے نام پر قتل کرکے فرار ہوگیا تھا۔

 

بعد ازاں پولیس نے قندیل بلوچ کے قتل کی تحقیقات کے دوران ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

 

قندیل بلوچ کے قتل کیس کی ایف آئی آر ان کے قتل کے ایک روز بعد درج کرائی گئی تھی۔

 

قندیل بلوچ کے قتل کیس میں ان کے بھائی محمد وسیم اور اسلم شاہین سمیت مفتی عبدالقوی، عبدالباسط اور حق نواز کے خلاف عدالت میں سماعتیں ہوئیں۔

 

قتل کیس کے تمام ملزمان ضمانت پر تھے، تاہم مرکزی ملزم اور قندیل بلوچ کا بھائی محمد وسیم جیل میں رہا اور عدالت نے اس کی ضمانت مسترد کردی تھی۔

 

قندیل بلوچ کے قتل کیس کا معاملہ گزشتہ ساڑھے 3 سال سے عدالتوں میں زیر سماعت تھا اور ابتدائی طور پر اس کیس کی سماعتیں علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی تھیں۔

 

بعد ازاں کیس کو ماڈل کورٹ منتقل کیا گیا تھا، جہاں پر یومیہ بنیادوں پر کیس کی سماعتیں کی گئیں۔ اسی کورٹ میں قندیل بلوچ کے والدین نے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست بھی دائر کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

 

عدالت کے مطابق قندیل بلوچ کے بھائیوں کو معاف کرنے سے قتل کیس میں نامزد دیگر ملزمان پر بھی فرق پڑ سکتا تھا، اس وجہ سے عدالت نے والدین کی درخواست مسترد کردی تھی۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے