ڈیرہ غازیخان : پاکستان پوسٹ نے پوسٹ کا رڈ کو ناکارہ ، بوسیدہ اور پرانا سمجھ کر ترک کردیا جبکہ پوری دنیا میں یہ ابھی رائج ہے۔ پیغام رسانی کے لیے خطوط کی ترسیلات کا سلسلہ
3 ہزار قبل مسیح شروع ہوا,ایک باقاعدہ نظام متعارف ہوا۔ اس مقصد کے لیے پیدل پیادے مقرر تھے جوکہ ممکنہ رفتار سے بھاگ کر پیغامات کو مین ٹو مین منتقل کرتے ۔ قدیم
میسوپوٹامیا کے عوام اور حکمرانوں نے پہلے ڈاک سروس کا آغاز کیا مگر یہاں بھی پیدل پیادے یہ ڈاک کی ترسیل کرتے تھے۔
آگے جاکر اس حوالے سے معلومات کا استفادہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اور برصغیر میں 1619 میں انگریز نے پہلی کمپنی ڈاک سروس شروع کی ۔ تاہم انگریز کی
ہندوستان میں آمد سے قبل بھی برصغیر میں ڈاک کا نظام خاصامضبوط تھا۔ہندوستان میں ڈاک کےجدید نظام کا بانی شیرشاہ سوری کو ماناجاتا ہے۔پیدل
پیادے,ہرکارے,گھوڑے گھڑ سوار پھر گھوڑا گاڑیوں سے گزر کر یورپ اور ہندوستان میں ڈاک کا نظام یا ڈاک خانہ ریلوے ٹریک کے ساتھ جڑ گیا۔ برطانوی راج ہندوستان اور
یورپ میں "رائل میل" ریل کے زریعے خطوط کی ترسیل شروع ہوئی۔ ڈاک کا لفافا اورڈاک ٹکٹ کے بعد ایک نئی جدت لاتے ہوئے پوسٹ کارڈ بھی متعارف کرایا گیا گتھے
اورخاکی رنگ میں پوسٹ کارڈ جلد مقبول ہوگیا۔
1869 میں پہلا پوسٹ کارڈ آسٹریا ,ہینگری میں متعارف اور استعمال کیا گیاپھر یورپ سمیت برصغیر میں مقبول ہوا۔ پوسٹ کارڈ عام طور پر مذہبی و قومی تہوار اور شادی بیاہ .
سمیت پیاروں کے انتقال کرجانے کے بعد کی رسومات کے لیےایک پرنٹنگ شدہ یونیورسل ٹائپ اوپن لیٹر کارڈ (پوسٹ کار)سے کام کے لیےیعنی ترسیلات کی جاتی ہے۔
پوسٹ کارڈکی تاریخ دو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے ۔ سوائے پاکستان کے ابھی بھی دنیا بھرمیں پوسٹ کارڈ کا استعمال ہوتا ہے۔ امریکہ ,یورپ ,چین حتی کہ بھارت میں پوسٹ
وہاں کی پوسٹل سروس میں شامل ہے بلکہ اس میں نئی جدت لائی گئی ہے۔
چین نے اپنے پوسٹ کارڈ کو اپنی ثقافت کو اجاگر اور یورپ نے اپنی سیاحت کو پرموٹ کرنے جبکہ بھارت میں پوسٹ کارڈ کو ہر حوالے سے اہمیت دی گئی ہے۔ بھارت میں
پوسٹ کارڈ عوامی چارٹر آف ڈیمانڈ کے باقاعدہ ایک کمپئین میں استعمال ہوتا ہے عوام اپنے مطالبات کو حکومت وقت تک زیادہ سے زیادہ پوسٹ کارڈ سینڈ کئے جاتے ہیں ۔
جیسے ڈاک لفافے اور ڈاک ٹکٹ کے نئے جدت آمیز اور یاگاری لفافے و ٹکٹ جاری ہوتے ہیں اسی طرح دنیا بھر میں پوسٹ کارڈ بھی جاری ہوتے ہیں ۔ پاکستان پوسٹ آفس
نے سرے سے ہی پوسٹ کارڈ ختم کردیا۔ کوئی اگر پوسٹ آفس جاکر پوسٹ کارڈ طلب کرےتو اس کو حیرت سے دیکھ کر کہا جاتاہے کہ کس دنیا میں رہتے ہو ,پوسٹ کارڈ کا
زمانہ نہیں۔ جدید مواصلات اور سوشل میڈیا کےہنگامہ کے باوجود دنیا کے دیگر ممالک میں پوسٹ کارڈ رائج ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی وزیر مواصلات و
پوسٹل سروسز مراد سعید کی توجہ پوسٹ کارڈ پر عوامی حلقے دلاچکے ہیں مگر پوسٹ کارڈ اب پاکستان پوسٹ کا حصہ نہیں۔ حکومت کوچاہئےکہ وہ پاکستان کی ثقافت اور سیاحت
کے فروغ کے لیے اور بذات خود پوسٹ کارڈ کی تاریخ کے ورثہ کو محفوظ بنانے کے لیے پوسٹ کارڈکا دوبارہ نئی جدت کے ساتھ اجراء کرے ۔



0 تبصرے