Saturday, 26 May 2018

شاہین ایئر لائنز کے اکاؤنٹس منجمد، لوکل فلائٹ آپریشن معطل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے شاہین ایئرلائنز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں اورسول ایوی ایشن کو نجی ایئرلائنز کا لوکل فلائٹ آپریشن بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایف بی آر کے لارج ٹیکس یونٹ کا کہنا ہے کہ شاہین ایئرلائنز کوفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 52 کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کرنے تھے جو آخری تاریخ گزر جانے کے بعد بھی ادا نہیں کیے گئے۔
ایف بی آر نے شاہین ایئرلائنز کے خلاف سول ایوی ایشن کو لکھے گئے خط میں ہدایت کی ہے کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی تک فلائٹ آپریشن بحال نہ کیا جائے اور واجب الادا رقم کی مکمل ادائیگی تک بینک اکاؤنٹس منجمد رکھے جائیں۔
ایف بی آر کے مطابق فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کی آخری تاریخ 15 مئی 2018 تھی تا ہم نجی ائیرلائنز کی جانب سے کوئی رقم جمع نہیں کرائی گئی جس وجہ سے ادارے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

ترنڈہ محمد پناہ:بے قابو ٹرالر جھونپڑیوں پر جا گرا، 4 جاں بحق

ترنڈہ محمد پناہ(نمائندہ تعمیر نیوز)  قومی شاہراہ پر ٹریلر بے قابو ہوکر سڑک کے ساتھ بیٹھے فقیروں کی جھونپڑی کے اوپر گرنے سے 4افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔جن میں ایک خاتون شبانہ مائی زوجہ عبدالخالق حسن عمر 8 سال آمنہ عمر 7 سال فاطمہ عمر 1 سال ہے جبکہ ٹریلر TMA 422 کا ڈرئیوار موقع سے فرار
ٹریلر روڈ کنارے جھونپڑیوں پر چڑھ دوڑا،3بچوں سمیت ایک خاتون جاں بحق جبکہ بچوں کے والد کا بازو ٹوٹ گیا۔تفصیل کے مطابق گزشتہ رات سحری سے قبل بائی پاس کے قریب لاہور سے کراچی جانے والے ٹریلر ڈرائیور کو نیند آنے کے سبب روڈ کنارے جھونپڑیوں پر چڑھ دوڑا جس سے 3 بچوں سمیت خاتون موقع پر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ بچوں کے والد کا بازو ٹوٹ گیا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

نشتراسپتال میں ڈائلیسز مشینیں خراب، مریض پریشان حال

ملتان: پاکستانی صوبہ پنجاب کے بڑے طبی مراکز میں سے ایک نشتر اسپتال میں بیک وقت دس ڈائلیسز مشینوں کی خرابی کے باعث مریض نجی اداروں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اسپتال ذرائع نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائلیسز مشینوں کا معاملہ حکومت پنجاب کے دعووں کے برعکس اور افسوسناک ہے۔
ہم نیوز کے مطابق نشتر اسپتال کا ڈائیلسز مشینوں کی مرمت کرنے والی فرم سے معاہدہ ختم ہوگیا ہے جس کی نا تو تجدید کی گئی نا ہی متبادل انتظام کیا گیا ہے۔
ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے نشتر اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ خراب ڈائیلسز مشینوں کی مرمت کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں میں ڈائلسزمشینیں کم ہونے کے خلاف 22 فروری کو پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نے تحریک التوا بھی جمع کروائی تھی۔
تحریک التواء میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسپتالوں میں سوا کروڑ کی آبادی کے لیے صرف 206 ڈائلیسز مشینیں موجود ہیں۔ اسپتالوں میں موجود مشینوں میں سے 39 عرصہ دراز سے خراب ہیں جس کے باعث مریض پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

پاکستانی عوام عمران خان کو قائداعظم کے رول ماڈل کے طورپر دیکھ رہی ہے۔کشمیرعلی خان لاشاری

ریتڑہ:غریب عوام کو قائداعظم کا پاکستان چاہیے۔پاکستانی عوام عمران خان کو قائداعظم کے رول ماڈل کے طورپر دیکھ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ق) تحصیل تونسہ کے نائب صدر کشمیرعلی خان لاشاری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پہلے سو دنوں کے لائحہ عمل میں غریب عوام کو چھت دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ بہت احسن اقدام ہے۔ لیکن یہاں پنجاب میں جن غریبوں کے کچے گھر ہیں وہ بھی قبضہ مافیا پولیس کی ملی بھگت سے چھین رہے ہیں۔ محرر سے لیکر ڈی ایس پی تک سب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔پنجاب پولیس کے تمام جرائم پیشہ گرہوں سے تعلقات ہیں خواہ وہ چھوٹو گینگ ہو یا بوسن گینگ ان کے جرائم میں پنجاب پولیس برابر کی شریک ہے۔ اسی طرح پٹرولنگ پولیس بھی روڈ کو کلیئر کرانے کی بجائے لمبی لمبی قطاریں لگا کر بھتہ وصول کر رہی ہے۔ واپڈا والے بھی بجلی چوری خود کرتے ہیں مگر اس کا بل غریب عوام کو بھیج دیتے ہیں۔غریب آدمی کا کم یونٹ خرچ کرنا اس کاجرم بن گیا ہے۔ کم یونٹ استعمال کرنے والے کو علیحدہ سے ڈیٹیکشن بل بھیجے جارہے ہیں جو کہ بہت بڑی نا انصافی ہے۔ واپڈا میں اصلاحات بھی بہت ضروری ہیں۔ واپڈا کو پرائیویٹائز کیا جائے اور ہائیڈور یونین پر پابندی لگائی جائے۔ اسی طرح پٹواری بھی کرپشن کی اعلیٰ مثال ہیں۔مقدس پیشہ ڈاکٹری کو دیکھ لیجئے کس طرح غریب مریضوں کو لوٹا جاتا ہے کہ قصائی کو بھول جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرا مطالبہ ہے کہ عمران خان برسراقتدار آکر ان برائیوں کے خاتمے کیلئے بھی اقدامات کریں تاکہ عام عوام سکھ کا سانس لے سکے۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

تعلیم کی کمی کے باعث ہمارا معاشرہ زوال کا شکار ہے۔ غلام مصطفیٰ خان میرانی


ریتڑہ(نمائندہ خصوصی) صوبائی حلقہ PP-285 میں واقع، مختلف قصبات کے اجتماعات اور عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے غلام مصطفے' خان میرانی نے کہا ہے کہ تعمیرِ وطن اور علاقہ میں خوشحالی کا خواب، اسباب اور وسائل بڑھائے بغیر، شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکتا لیکن اِس سے بھی پہلے، تاریخ اور تجربے کا سبق یاد رکھنا چاہیے کہ "انقلاب" کا تصور "اِقرا" سے شروع ہوتا ہے یعنی تعلیم، جبکہ آج کے دور میں تعلیم کے ساتھ جمہوریت کا تسلسل دوسرا اہم عنصر ہے، اس طرح تعلیم اور جمہوریت کی بدولت ایک مہذب، خوشحال اور شاہراہِ ترقی پر گامزن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے علاقہ کا بیشتر حصہ زیورِ تعلیم سے محروم ہے اور جمہوریت کا جوہر بھی ناپَید نظر آتا ہے۔ علاقہ کی زیادہ تر آبادیوں کی نوجوان نسل پرائمری سے پہلے سکول چھوڑ جاتی ہے اور جمہوریت کے حوالہ سے بھی گزشتہ سَتر برس کے پَرتَو میں غلام اِبنِ غلام اِبنِ غلام نسلیں دکھائی دیتی ہیں جو تُمنداروں، جاگیرداروں، وڈیروں، خانقاہوں، درباروں اور گدی نشینوں کے شکنجوں میں مفلوج رہی ہیں یا پھر قومیتوں، برادریوں، خودغرضیوں اور مفاد پَرستیوں کے حصار میں سرگرداں رہی ہیں ۔ اس لئے تعلیم بڑھ سکی نہ جمہوری روایات کو پِنَپنے دیا گیا۔ سالہاسال سے ان ناکامیوں کا نزلہ پورے علاقہ پر گرتا رہا اور ہم ایک گِھسے پِٹے ، قدیم اور فرسودہ طرزِ زندگی پر اکتفا کرتے رہے۔ دکھ ہوتا ہے جب آج بھی ہم جمہوریت کے تقاضوں اور اُسکے ثمرات سے مُستفیض ہونے کے بجائے اپنے مقدر سے مذاق کرتے ہیں ۔ متحرک اور معیاری خصوصیات کی حامل قیادت کے انتخاب کے بجائے، صُم" ، بُکم"، عُمی" جیسے مَکروہات کے حامل افراد کے ہاتھوں، اپنے پانچ سال کے مستقبل کا مُقدر تھما دیتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ اطمینان بخش اور آبرومندانہ زندگی کا انحصار انسان کی آزادی ، اسباب اور اقتصادی وسائل کی دَستیابی پر منحصر ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب کے پسماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان کی دُور اُفتادہ تحصیل تونسہ شریف، معیارِ زندگی سے وابستہ، اِن تمام سہولتوں سے محروم ہے۔ تعلیم کی کمی، معاشی مشکلات اور صدیوں سے مَسلُوب اظہارِ رائے نے یہاں کے انسان کو روایات کا اَسیر بنا دیا ہے۔ لوگ تبدیلی اور ترقی چاہتے ہیں مگر ہر پانچ سال بعد ووٹ کے غلط استعمال سے ، خود ہی اپنی خواہشات کا گَلا گُھونٹ دیتے ہیں۔ عوام میں اچھے بُرے کی تمیز ہے مگر قیادت کے انتخاب کے وقت اکثر بَہک جاتے ہیں۔ پانچ سال کٌڑھنے اور کَفِ افسوس مَلنے کے باوجود انتخابات کے دن ایک بار پھر چَکنی چوپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں۔ 
غلام مصطفے' میرانی نے کہا کہ علاقہ میں ارتقاء ، خوشحالی اور ایک تابناک مستقبل کیلئے آٹھ صفحات پر مشتمل، اپنے اَہداف کا بڑا جامع اور تفصیلی ایجنڈا جاری کر دیا ہے جس میں ہمارے مِشن ، مَساعَی اور منزل کا پورا روڈ میپ دیا گیا ہے جس کے ایک ایک نُکتہ پر عمل کیا جائے گا۔ تونسہ میں یونیورسٹی کیمپس، زرعی کالج، ریسرچ سنٹرز، حلقہ کے بڑے بڑے قصبات میں مردانہ و زنانہ کالجوں کا قیام سرِفہرست ہے۔ اس طرح تونسہ شریف کو ضلع بنوانا، وہوا اور ٹرائبل ایریا کو تحصیلوں کا درجہ دِلوانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ حلقہ کی سڑکوں کی ناگُفتہ بِہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں کہا کہ کھنڈرات کی تہذیب کے دور کو جاننا ہو تو کلروالا، ٹھٹہ، شِلہانی، بودو، باٹھی، لتڑا اور وہوا کے گردونواح کی سڑکیں ملاحظہ فرما لیں یا پھر نتکانی اور کچے کے پورے علاقہ کا دورہ کر لیں۔ انسان کَھڑک جاتا ہے۔ علاقہ بھر کے قصبات اور بَستیاں سولنگ اور سِیوریج سسٹم سے محروم ہیں۔ اس ساری قہرماں کیفیت کی ذمہ داری ہمارے غلط فیصلوں پر عائد ہوتی ہے۔ عوام سے اپیل کرتا ہوں، خدا را ہوش کے ناخن لیں۔ خاص طور، عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر پولنگ اسٹیشنوں پر لے جانے اور ووٹ کا غلط استعمال کروانے والے معززینِ معاشرہ اور عمائدینِ علاقہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ زندہ ضمیر ہونے کا ثبوت دیں۔ عوام کو میرٹ کے بجائے، من پسند امیدواروں کیطرف مائل اور مجبور کرنا سنگین قومی جرم اور علاقہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوتا ہے۔ صحت کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ ابتدائی طِبی امداد کیلئے علاقہ کے ہر بڑے قصبہ میں اہم طبی سہولیات سے آراستہ ڈسپنزی ہونی چاہئے تاہم تونسہ شریف میں کم از کم تین سو بیڈز اور وہوا میں کم از کم ڈیڑھ سو بیڈز کے جدید ترین ہسپتال اور تمام میڈیکل ٹَیسٹس کیلئے لیباریٹریز کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ زراعت کے فروغ کے ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ تحصیل بھر کے پَچادھ کے بارانی رقبوں کی آبادی کے لئے لِفٹ کینال کی جلد از جلد منظوری کا حصول ہمارا مشن ہے جسے انشاءاللہ پایہء تکمیل تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑا جانے گا۔ چشمہ رائٹ بنک کینال میں 1800کیوسک پانی پورا کروانے، رود کوہی نظام کی اصلاح کیلئے ٹھوس اقدامات کی منصوبہ بندی ہمارے پیشِ نظر ہے۔ علاقائی خوشحالی اور بے روزگاری کے ازالہ کیلئے، حلقہ میں شوگر مِلوں، سیمنٹ فیکٹری اور دیگر صنعتوں کے قیام کیلئے جد وجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ او جی ڈی سی کو اُجاڑ کر علاقہ کو آمدنی اور ملازمتوں کے مَنبَع سے محروم کر دیا گیا۔ منصوبہ جاری رہتا تو آج تحصیل تونسہ شریف کا ہر قصبہ گیس سپلائی سے مستفید ہو رہا ہوتا اور ملازمتوں کا دروازہ بھی کھلا رہتا۔ اس عظیم منصوبہ کی بحالی کیلئے بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں کہا کہ ہائی وے کے ذریعے تونسہ شریف کو بلوچستان سے ملانا چاہیے۔ یہ اقدام ایک طرف علاقہ میں تجارت کے فروغ اور خوشحالی کا وسیلہ بنے گا، دوسرا دو صوبے باہَم بہت قریب ہو جانے سے محبتیں بڑھیں گی اور قومی یَکجہتی کو طاقت ملے گی۔ اس طرح لیہ تونسہ پُل کے نہایت سُست رفتار کام میں سُرعت پیدا کرنا وقت اور حالات کا اہم تقاضا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ جات کے درمیان اِنڈس ہائی وے کی حالتِ زار کا انداذہ لگانا مشکل نہیں اور نہ اِسکے تباہ کن اثرات ڈَھکے چُھپے ہیں ۔ اسے فورا" دو رویا روڈ میں بدلنا چاہئے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے ڈیرہ غازی خان تک موٹر وے کی تعمیر سے پَہلو تَہی کرنا اور آگے موٹروے کے ذریعے کراچی سے مُنسلک نہ کرنا اس علاقے کے ساتھ سَراسَر بے انصافی، بلکہ زیادتی ہے۔ موقع ملا تو مجوزہ منصوبہ کی منظوری کیلئے ثَمرآور مُہم چلائی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اِن مقاصد کا حصول عوام کی سوچ اور سَعی پر منحصر ہے۔ خبردار رہنا چاہیے کہ جمہوریت اور انتخابات، عوام کو اپنے مستقبل کے مقدر کیلئے فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو پانچ سال کے طویل انتظار کے بعد ملتا ہے۔ اس کی قدر کریں اور اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کی جُرات پیدا کریں۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>