ڈیرہ غازی خان (چودھری اختر علی گجر سے )میونسپل کارپوریشن ڈیرہ کی مئیر شپ کی نامزدگی پر مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی ایم این اے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم اور ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ میں ٹھن گئی ، الیکشن سے قبل دونوں اراکین اسمبلی میں بھرپور اتحاد تھا جو شہر کی سربراہی کے حصول کیلئے جاری رسہ کشی کے باعث ٹوٹ گیا ، حکمران جماعت نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کے امیدوار کو مئیر شپ کیلئے نامزد کر دیا ، ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ سخت ناراض ، 2018کے عام انتخابات سے قبل ن لیگ سے راہیں جدا ہو سکتی ہیں ۔۔ تفصیل کے مطابق 5دسمبر 2015کو پنجاب کے تیسرے مرحلے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد نے ضلع ڈی جی خا ن سمیت تینوں تحصیلوں ڈی جی خان ،تونسہ شریف اور کوٹ چھٹہ میں بھرپور کامیابی حاصل کی تھی ، ضلع کی حکمرانی کیلئے ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ اور ایم این اے سردار اویس احمد خان لغاری گروپ کے درمیان شدید رسہ کشی دیکھنے میں آئی ، ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ کو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم گروپ کی حمایت حاصل تھی جبکہ اس کے برعکس لغاری گروپ کو سابق ایم پی اے سردار میر بادشاہ قیصرانی کی حمایت حاصل تھی ، اور دونوں گروپ اپنے اپنے امیدوار کی نامزدگی کا دعوی کر رہے تھے کئی روز مسلسل ہیجانی کیفیت کے بعد بلآخر ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ گروپ کو اپنا امیدوار نامزد کرانے میں کامیابی حاصل ہوئی اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی طر ف سے ان کے صاحبزادے سردار عبدالقادر خان کھوسہ کو ضلع کی چئیرمین شپ کیلئے نامزد کر دیا گیا ، اسی طرح تحصیل میونسپل کارپویشن ڈی جی خان میں چونکہ کسی دوسری پارٹی کواکثریت حاصل نہ تھی اور 17کے ایوان میں مسلم لیگ ن کو چودہ ممبران کے باعث واضح اکثریت حاصل تھی اسی لئے مئیر شپ کیلئے ایم این اے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم اور ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ اپنے اپنے امیدوار کی نامزدگی کیلئے کوشاں تھے سید عبدالعلیم شاہ نے مئیر شپ کا تاج اپنے سر سجانے کیلئے اپنے بہنوئی سید عمران شاہ کو ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر کامیاب کرایا جبکہ اس کے برعکس ایم این اے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم اپنے قریبی عزیز شاہد حمید خان چانڈیہ کے سر پر تاج سجانا چاہتے تھے مسلسل کئی روزہ جدوجہد کے بعدبلآخر یہاں بھی ایم این اے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو کامیابی حاصل ہوئی اور ان کے نامزد کردہ شاہد حمید چانڈیہ کو مئیر اور شیخ اسرار احمد کو ڈپٹی مئیر کے عہدہ کیلئے نامزد کر دیا گیا ، گذشتہ روز مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی کے آخری روز حکمران جماعت کے ایم این اے اور ایم پی اے میں اس وقت اختلافات کھل کر سامنے آ گئے جب ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی طرف سے نامزدگی کے باوجود شاہد حمید خان چانڈیہ کے مقابلہ میں اپنے بہنوئی سید عمران شاہ کے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ، اس موقع پر جب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم سے رابطہ کیا گیا تو انہو ں نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے میونسپل کارپوریشن کی مئیر شپ کیلئے شاہد حمید خان چانڈیہ اور ڈپٹی مئیر شپ کیلئے شیخ اسرا راحمد کو نامزد کر کے پارٹی ٹکٹ جاری کیا ہے ، ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ نے مئیر کیلئے اپنے بہنوئی عمران شاہ اور ڈپٹی مئیر کیلئے ذوالقرنین لاشاری کے کاغذات نامز دگی جمع کرواکے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے اس طرح بظاہر دونوں حکومتی اراکین اسمبلی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے دوسری طرف جب رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالعلیم شاہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی ڈسپلن کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کی جبکہ عمران شاہ کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا فیصلہ مسلم لیگ ن کے نو منتخب چئیرمینوں کے ہاؤس کی اکثریت نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں اب بھی مسلم لیگ ن کا حصہ ہوں اور آئندہ بھی مسلم لیگ ن میں ہی رہوں گا ، اوربہت جلد غلط فہمیاں بھی دور ہو جائیں گی ۔جبکہ ایم پی اے سید علیم شاہ کے اس بیان پر سیاسی پنڈتوں کو مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہی کچھ اور نظر آرہا ہے ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ اور ایم این اے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی راہیں جدا ہو سکتی ہیں ، اور 2018کے عام انتخابات میں ڈیرہ غازی خا ن کے سیاسی منظر نامہ پر بڑ ی تبدیلیوں کی توقع ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ جس طرح 2013کے عام انتخابات میں لغاری گروپ کے انتخابی نشان مٹکا پر کامیابی حاصل کرنے کے باوجود لغاری سردار وں اور ایم پی اے سید عبدالعلیم کی راہ جدا ہو گئی تھی اس طرح اس کا مستقبل قریب میں بھی قوی امکان ہے




0 تبصرے