ریتڑہ(نامہ نگار)میرے بیٹے نے خودکشی نہیں کی اسے قتل کیا گیا ہے۔خود کشی کا شوشہ چھوڑ کر بااثر قاتلوں کو قانون کے شکنجے سے بچانا ہے۔اعلیٰ حکام اسے انصاف فراہم کرنے میں اس کی مدد کریں۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ شب گندم کے کھیت سے ریتڑہ کی نواحی بستی رہلیں کے رہائشی پندرہ سولہ سالہ نوجوان کی نعش ملی تھی جس کے بازو کے اوپر پستول بھی رکھا گیا تھا۔جسے ضروری کارووائی کے بعد دفن کردیا گیا تھا۔متوفی ندیم خوجہ کے والدمہر خوجہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کے بیٹے ندیم خوجہ کو سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیاگیا ہے اور قتل کو خودکشی ظاہر کرنے کیلئے پستول اس کی نعش پر رکھ دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جس جگہ اس کی نعش ملی تھی وہاں کسی طور بھی مزاحمت کے نشانات یا خون نہیں پایا گیا جس کی وجہ سے یہ قوی امکان ہے کہ اسے کہیں اور جگہ قتل کرکے یہاں پھینک دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل قتل ہونے والی رات سے پہلے شام کو اسی بستی کے رہائشی رمضان شاہ ولد بشیر شاہ نے میرے بیٹے ندیم خوجہ کو فون کرکے بلایا جس کے بعد عشا کے نزدیک مجھے کونسلر ملک ثقلین کا فون آیا کہ آپ کا بیٹا کبوتر چوری کرتے پکڑا گیا ہے ہم نے اسے باندھ رکھا ہے آکر لے جاؤ ، اس پر میں اور بشیر خوجہ کونسلر ملک ثقلین کے ڈیرہ پر گیا وہاں پر ملک سفطین،ظہور کمالی، شوکت کمالی، مختیار کمالی موجود تھے انہوں نے میرے بیٹے کو کمرے میں رسیوں سے باندھ رکھا تھا اور اس پر شدید تشدد کیا گیا تھا حتیٰ کہ اس کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔اس پر ملک ثقلین نے کہا کہ ہم نے اسے خوب سبق سکھا دیا ہے اب یہ کل کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ ہم بڑی مشکل سے اسے گھر لے آئے اور اس کے کمرے میں اسے سلا دیا۔رات کسی وقت ہم نے اسے اپنے کمرے میں نہ پا کر اسے تلاش کرنا شروع کردیا تو کافی دیر تک تلاش کرنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس کی نعش گندم کے کھیت میں پڑی تھی۔ متوفی ندیم کے بھائی اور مہر خوجہ کے دوسرے بیٹے سلیم خوجہ نے بتایا کہ میرے بھائی پر صرف تشدد ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی تھی۔متوفی کے والد مہر خوجہ اور بھائیوں نے ڈی پی او ڈیرہ اور آر پی او ڈیرہ سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔



0 تبصرے