ایں چہ بوالعجبی است !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:غلام مصطفی خان میرانی
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور خادم اعلی' پنجاب محمد شہباز شریف, جب تک اپنے اپنے مناصب اور ذمہ داریوں پر فائز ہیں، انہیں چاہیئے کہ پاناما متعلقات اور سیاسی محاذ پر جاری قیل وقال سے وقت نکال کر، کچھ توجہ قومی فرائض اور منصبی وظائف کی طرف بھی دیں کیونکہ " اور بھی غم ہیں زمانے میں 'محبت' کے سوا "
اندرون ملک در پیش چیلنجز اور بین الاقوامی افق پر سلگتے ہوئے مسائل، تساہل اور غفلت کے متحمل نہیں۔ حالات قومی قیادت اور عنان سلطنت کے سواروں سے چشم کشائ اور چابکدستی کا تقاضا کرتے ہیں ورنہ لمحوں کی خطا، صدیوں کے خوفناک خمیازے کا سبب بن سکتی ھے اور مکافات عمل کے قدرتی نظام سے کسی کو رستگاری حاصل نہیں۔
دیہات میں مقیم ملک کی خاموش مگر فیصلہ کن آبادی پر، اس وقت، محرومیوں، مصائب اور مسلسل استحصال سے جو قیامت بیت رہی ھے۔، محتاج وضاحت نہیں۔ بڑے دکھ اور دردمندی کے ساتھ حقائق کی اساس اور شواہد کی بنیاد پر پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ زراعت پر انحصار کرنے والے ملک کے دیہات، جو کم وبیش ستر فیصد آبادی پر محیط ہیں، کس طرح کٙسمپرسی اور زبوں حالی سے دو چار ہیں۔ ان کے مسائل اور مشکلات سے لاپروا حکومت کا حال اگر یہی رہا، اپنا رویہ بدلا نہ دھقان دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کی تو پھر عیاں را چہ بیاں ، 2018 کا سال حکمران جماعت کیلئے زوال اور وبال بن کر اترے گا اور فطرت عبرتناک مناظر پیش کرے گی۔ یہ نوشتہء دیوار ھے !
ہر چند کہ نمائش اور ظواہر پر مبنی کچھ اعلانات ہوئے ، اقدامات کا ڈھول پیٹا گیا۔ زمینی حقائق کے علی الرغم مُژدے سنائے اور مجسم درغ گوئ پر زرق برق سے آراستہ پٙیرھن چڑھانے میں بھی کوئ دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا، ستم پر ستم تو یہ ہے کہ داد طلب ترنگ میں قوم کا کثیر سرمایہ میڈیا مالکان کی خوشنودی پر وار دیا اور اپنے بے سروپا کارناموں کی تشہیر شروع کر دی۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری ھے جو در حقیقت خیانت ،خویش پروری اور مبالغہ آرائ کا بڑا گمراہ کن اور شرمناک شغل ھے مگر حاصل کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں ، حقائق سے آشنا اور حالات سے باخبر عوام میں الٹا پھبتیوں اور ٹھٹھے بازی کا ردعمل سامنے آیا۔ تلخ حقیقت یہ ھے کہ آپ کے اٙزمنہء اقتدار میں، ہر دور زراعت کیلئے نامسعود اور تباہ کن ثابت ہوا۔ ملک کے طول وعرض میں سنائ دینے والی یہی آواز ، دراصل آواز خلق ھے اور یہی نقارہء خدا ۔
ہم جانتے ہیں، زراعت جو قومی معیشت کیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے، حالت نٙزع میں ھے اور کسان جو اقتصادی سرگرمیوں میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتا ھے، بدترین ابتری اور بدحالی کا سامنا کر رہا ھے۔ اس ہولناک حالت اور لرزہ خیز انجام کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں، حکمرانوں کی بےاعتنائ اور انکے نالائق مشیروں کے طرزعمل پر عائد ہوتی ھے۔ مسند نشینوں اور انکے مداحوں سے معذرت کے ساتھ ایک التماس ھے کہ اس گزارش اور بیانئے کو مبالغہ آرائی یا متعصبانہ مفروضوں پر محمول نہ کیجئے گا۔ بخدا ہرگز ایسا نہیں۔ آپ خلاوءں او خیالوں کی پرواز سے اتر کر، قدرے نیچے نگاہ ڈالیں، حقائق کے ہیولے آپ کا تمسخر اڑا رھے ہیں۔ اب بھی وقت ھے، قصہء زمین، برسر زمیں سننے ، سمجھنے اور سلجھانے کی کوشش کریں۔ ایسے اقدام اور عمل میں دھرا مفاد اور مصلحت پنہاں ہیں۔ ملک اور آبادی کے معاشی مفادات کیلئے موزوں اور آپ کا سیاسی مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا۔ مبادا کہ آپ راقم کو کسی مخالف محاذ سے موسوم کرتے ہوئے گزارشات کو نظر انداز کر دیں۔ ایسا ہرگز نہیں ۔ یہ مثبت سوچ کے حامل، ایک خیرخواہ شہری کا مخلصانہ مشورہ ھے۔ آپ خوش آمدیوں کے حصار سے باہر نکلیں اور خلق خدا کی صدائے بازگشت سنیں۔ چاق چوبند اور ھمہ وقت متحرک بہت سے بے ضمیر مقربین اور مفاد پرست مصاحبین آپ کے گرد ہالہ بنائے دکھائ دیتے ہیں تو قلق اور کسک کی کیفیت محسوس ہوتی ھے۔ یہ چاپلوس اور چرب زبان مُشاق دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں جب آپ کو " سب اچھا " کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ سچائ یہ ھے کہ زرعی آبادی کا بیشتر حصہ آپ سے نالاں ھے۔ گاوءں کی گراں بار زندگی، آپ کیلئے سرگرانی کا سبب بنتی نظر آ رہی ھے۔ کوئ سال بھر مدت بیت چلی جب زراعت، صحت، تعلیم اور سماجی مسائل پر سلسلہ وار مفصل تحریروں اور تجاویز پر مشتمل مضامین کے ذریعے جناب کی توجہ کا خواستگار ہوا تھا اور عرض کیا تھا کہ وقت رائیگاں پر رونے دھونے کے بجائے، دستیاب مہلت سے مستفید ہونے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ قوم کی طرف سے سپرد شدہ بارِ امانت، اقتضائے دیانت اور اقدامات و مساعی کا متقاضی ھے۔ خصوصا" زراعت کے ضمن میں " جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی" عنوان کے تحت ایک جامع مضمون کے توسط سے تجزیہ اور تجاویز نذرِ التفات کی تھیں۔ اس لئے کہ ملک کی ستر فیصد آبادی صُمم بُکم ضرور ھے مگر اشک و آہ کے پیدا کرنے والی قوتوں، یعنی قلب و نگاہ، سے محروم نہیں مگر افسوس کہ روم جلتا رہا اور نیرو بانسری کے سُر تال سے فرصت نہ پا سکا۔ اوپر پاناما کی کہانی کا غلغلہ عود آیا جو کسی نے نوحہ اور کسی نے قوالی کے انداز میں پیش کیا۔ ماتم مرثئے اور شور و غل کی ایسی فضا میں قومی مسائل دُھندلا گئے !
زبوں حال زراعت کے ضمن میں آج ایک بار پھر دو تین سلگتے معاملات نشاندہی پر اکسا رھے ہیں کاش کہ آپ پڑھ سکیں اور موزوں مگر مستعدی سے اقدامات لینے کیلئے کچھ وقت نکال پائیں۔
1-گزشتہ برسوں کے دوران، گندم، کپاس اور چاول کے فصلات اور پیدواروں کا جو حشرنشر ہوا، استحصالی مافیا شادباد اور کسان برباد ہوا۔ خسارے اور خستگی کے مارے ہوئے کسان نے، متبادل کے طور پر کماد کی کاشت کا سہارا لیا۔ نتجتہ" اس سال کماد کراپ غالب رہی مگر معاملہ آسمان سے گرا کھجور پہ اٹکا، مقولے پر منتج ہوا۔
شوگر ملز کے مالکان نے بےبس اور مجبور حال کسان کو جنگلی گِدھوں کی طرح نوچا۔ سب جانتے ہیں کہ شوگر ملوں کے مالکان کی کثیر تعداد حکومت کا حصہ ھے یا طاقتور اپوزیشن کی مسند پر براجمان۔ کیا مجال کہ انسان نما ان وحشی درندوں پر کوئ ہاتھ ڈال سکے۔ مختلف حیلے بہانوں سے کسانوں کی گنا ترسیلات سے من مانے مقدار میں کٹوتیاں کی گئیں۔ واردات کا یہ وتیرہ چوری نہیں، سینہ زوری اور راہزنی کے ارتکاب کے مترادف ھے۔ حکومت اور کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ادارے یکسر بےحس اور غیر متعلق رہے۔ حیرت تو انقلاب اور انصاف کے داعی جناب عمران خان اور کےپی کے حکومت کی بے حسی پر ھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں واقع شوگر ملوں میں دیدہ دلیری سے کسانوں کا استحصال کیا جاتا رہا۔ جی بھر کر گنے سے بھرے ٹرک اور ٹرالیوں پر کٹوتیاں لگائ گئیں۔ یہاں تک کہ تیس چالیس فیصد تک کاٹ لگا لینا مشغلہء مرغوب بن گیا۔ کسان قربانی کے جانوروں کی طرح قصائیوں کے ہاتھ چڑھ گیا اور کسی کو استفسار و احتساب کا یارا نہ رہا۔ یہ کٹوتیاں سی پی آرز یا کسی اور ریکارڈ میں ظاھر نہیں کرتے تھے۔ کنڈے تول پر کھڑے کھڑے پانچ سو وزن گنے کو اڑھائ سو من تک لکھ دینا اور دوسو پچاس من وزن گنے کا وزن، ڈیڑھ پونے دو سو من تک درج کر دینا معمول بن گیا۔ کسان بے چارا کیا کر سکتا ھے۔ پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق مرتا، کیا نہ کرتا، کربناک شکنجے میں جکڑا رہا۔ طوہا" کرہا" قبول کر لینے کے علاوہ سامنے کوئ متبادل راستہ بھی نہیں تھا۔ اندھی کٹوتی کے خلاف معمولی سے اعتراض یا احتجاج پر لوڈڈ گاڑی کو مل سے باہر نکال دیا جاتا رہا۔ کیا کسانوں پر بیتی اس سرگزشت کا کوئ ادارہ نوٹس لے گا؟
دوسری اہم بات بر وقت ادائیگیوں سے دانستہ اغماض اور لیت و لعل کی ھے۔ ملز کی طرف سے ادائیگی میں ایک ایک یا دو دو ماہ مدت تاخیر کا کیا جواز ھے ؟ قرضوں کی ادائیگی، اگلی فصل کی تیاری اور ضروریات روزمرہ سے آبرومندانہ طریقے سے نمٹنے کا حق ملز مالکان کیوں غصب کر لیتے ہیں ؟ ایک اور مکروہ دھندہ کا تذکرہ بھی برمحل اور ضرور محسوس ہو رہا ھے۔ملز مالکان یا انکی کرپٹ انتظامیہ نے باہر بروکرز بٹھا رکھے ہوتے ہیں جو کسانوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں۔ 180 روپے فی من مقرر شدہ قیمت گنا کو ڈیڑہ سو یا ایک سو ساٹھ روپے فی من خرید کر فورا" ادئیگی کر دیتے ہیں۔ استحصال، بددیانتی اور لوٹ مار کا یہ غلیظ کاروبا پورا سیزن سر عام جاری رھتا ھے۔ کسانوں کی کثیر تعداد تاخیر برداشت کرنے کی طاقت سے قاصر ہوتی ھے لہذا کُند چھری تلے گردن رکھنے پر مجبور ہو جاتی ھے۔
تیسرا اھم مسلہ جو حکومت اور اس شعبہ کی اتھاریٹیز کی فوری توجہ کا متقاضی ھے۔ ملز مالکان نے اس سال بد دیانتی اور استحصالی طریقوں سے تجوریاں خوب بھر لی ہیں۔ بیشترز نے اپنی ملیں اب بند کر دی ہیں اور باقی اگلے ایک دو روز میں بند کرنے والے ہیں۔ بھونڈا بہانہ یہ پیش کیا جا رہا ھے کہ گنے میں رٙس کم رہ گیا ھے حالانکہ اس بہانے کی آڑ میں بڑی بھاری کٹوتیاں بھی لگا رھے ہیں۔ عملا" صورتحال یہ ھے کہ ابھی تک وسیع رقبوں پر گنے کی فصل کھڑی ھے۔ گندم کی کٹائ نے کسانوں کو دشواری میں ڈال دیا ھے۔ لیبر تقسیم ہونے سے گنے کی کٹائ بری طرح متاثر ہوئ۔ دریں حالات اگر ملیں بند کر دی گئیں تو گنے کے کاشتکاروں کو ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ منطقی طور پر قومی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑیں گے مگر متاثرہ کسانوں کا کچومر نکل جائے گا۔ وزیر اعظم اور متعلقہ وزرائے اعلی' کو فورا" نوٹس لیتے ہوئے تدارکی انتظامات کرنے چاھئیں۔ جب تک گنے کی کٹائ مکمل نہیں ہو جاتی، شوگرملز مالکان کو پابند کیا جائے کہ ملیں چالو رکھیں اور کٹوتی نہ کریں۔ گنا سپلائ کی قلت کے باعث، مسلسل نہیں تو حسب روایت ملز آپریشن کیلئے وقفوں کے ساتھ ٹائم ٹیبل بنا دیں۔ یہ ایک سنجیدہ اور گمبھیر مسلہ ھے جسے نظراندز کرنا مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کاشتکار سخت پریشان ہیں۔صٙرفِ نظر کرنے سے کسان کنگال اور بد حال ہو جائے گا۔
2۔۔۔ دوسرا اھم مسلہ سرکاری سطح پر گندم خریداری کا ھے۔ دانہ دانہ اٹھانے کا ڈرامہ کرنے والوں نے ابھی تک خرید کا باقاعدہ آغاز ہی نہیں کیا جبکہ کٹائ شروع ہوئے دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ھے۔ گندم کی ڈھیریاں کھلے آسمان تلے کھیتوں میں بھکری پڑی ہیں۔ عام مارکیٹ میں مجبور اور مقروض حال کسان ایک ہزار سے گیارہ سو روپے فی من گندم بیچنے پر مجبور ھے۔ سرکاری ریٹ 1300 روپے فی من ھے۔ کس قدر تاسُف خیز صورتحال ھے کہ قنوطیت کا مارا کسان600 /550 روپے فی بوری خسارے پر گندم کے سودے کرتا نظر آتا ھے۔
فوڈ سنٹروں پر "فرعونوں اور فسادیوں" کا راج ھے۔ ہر شخص اپنے مفاد کے مدار پر گھوم رہا ھے۔ انتظامیہ کی خود سٙری اور نمائش و زیبائش کی جلوہ آرائ میں کوئ کمی دکھائ دیتی ھے نہ ہر بار و برس کی مانند آڑھتیوں، کمیشن خوروں، دلالوں اور دبڑگھسڑ گروہوں کا فقدان ھے۔ جینوئن کاشتکار جوتے کھا رھے ہیں۔ باردانہ اجرا کی پالیسی نہایت ناقص، بیہودہ اور سرکار سر پرستی میں چلنے والے کرپشن گھر چلانے کا گڑھ محسوس ہوتی ھے۔ جینوئن کاشتکار محروم جبکہ آڑھتی اور لوٹ مار مافیا ہر سنٹر پر غالب و غاصب بنا دکھائ دیتا ھے۔ جس کی دو ایکڑ زمین بھی نہیں، کسی نوسر باز کی سرپرستی میں اقارب کے درجنوں شناختی کارڈز اٹھائے سینکڑوں بوریوں کا بار دانا لے رہا ھے۔ چٙمار و کُمہار پیشے سے منسلک اشخاص، جو حقیقت میں مرلہ بھر کاشت کے شواہد سے بھی تہی دست ہیں، جعلی گرداوریوں اور مصنوعی دستاویز کے بل بوتے پر باردانہ لیتے اور پھر معقول منافع پر فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ مافیا مذکور یہ باردانہ، دس ہزار سے بیس ہزار روپے فی سینکڑا، ان صحیح اور جینوئن کاشتکاروں کو فروخت کرتا ھے جو خود براہ راست حق رسی اور انصاف یابی سے محروم ہیں ۔ ہر سنٹر پر یہ مافیا مہم جوئ اور انتظامیہ کی چاپلوسی میں منہمک و مصروف نظر آتا ھے۔ یہ ایسے عیار ڈاکو ہیں جو سنٹر کو چلانے والے عملہ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں کمیشن کے نام پر رشوت دیتے ہیں۔ کھانے کھلاتے ہیں، گھروں میں تحفے تحائف پہنچاتے ہیں اور اپنا " معاوضہ" فوڈ سنٹروں پر باردانہ کی شکل میں وصول کرتے ہیں۔
کہیں بھی جا کر ملاحظہ فرما لیں ، ہر سنٹر پر حکومت کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔ اصل کاشتکاروں کا مقدر سارا سارا دن قطاروں میں کھڑے رہنا اور ذلتیں اٹھانا ھے اور ہشاش بشاش مافیا موجیں اڑا رہا ہوتا ھے۔
حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاھئیں جس نے کسان کی بے چینی اور بربادی سے کہیں زیادہ اپنے لیئے بدنامی اور حقارت کا ماحول پیدا کر دیا ھے۔ حکومت مخالفت کیلئے کسی اپوزیشن یا مخالف محاذ کی ضرورت نہیں، تزلزل اور تنزلی کیلئے، بدنامی کے یہ منابع جاریہ ہی کافی ہیں۔
اگر حکومت کسان کئر اور دھقان داتاپٙن پالیسی بنانے میں مخلص اور سنجیدہ ھے تو گندم خریدنے کی تحریک اور ترکیب میں تبدیلی لائے۔ کسانوں کی عزت نفس اور توقیر کو داؤ پر نہ لگایا جائے۔ دھکم پیل، ذلت و رسوائ اور انتظار و اضطراب سے فلاح و فرحت کا نزول نہیں، سماجی سکون تلپٹ اور تباہ ہونا شروع ہو جاتا ھے۔ معروضات کا ماحٙصل یہ ھے کہ جس طرح بھی ممکن ہو سکے، حکومت کسانوں سے سالم گندم اٹھانے کا پیمان اور اعلان کرے، پھر سختی سے عمل پیرا ہو جائے۔ اب تو حالت بااینجا رسید کہ گندم کھیتوں میں موسم کے رحم وکرم پر اور کسان فوڈ سنٹروں پر ذلتوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ یہ جملہ منظر ، حکومت کیلئے گاؤں گاؤں اور شہر شہر سجائے گئے نفرتوں کے مراکز کی صورتحال پیش کر رہا ہے !!!
3- تیسری اہم بات کپاس اور چاول کے فصلات کے بارے میں ھے۔ دونوں اہم کراپس کا موسم شروع ہو چکا ھے۔ گندم بیچنے کیلئے فوڈ سنٹروں پر خوار ہوتے کسان، کپاس اور مُنجی کے مستقبل سے شدید مایوس ہیں۔ ماضی کے مکروہ مُجرِبات و مناظر اور حال کے تُرش وتلخ تجربات نے کسان کو زراعت سے متنفر کر دیا ھے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ھے اور درپیش صورت احوال المیہ سے کم نہیں۔ کسان کی ڈھارس اور اِیقان کیلئے لازم ہے کہ حکومت فوری طور پر کپاس اور چاول کی امدادی قیمتوں کا اعلان کرے۔ اس ضمن میں تمام دشواریوں کے ازالہ اور ناگزیر ضروریات میں بھر پور استعانت کا اہتمام کرے۔ مٙصارف کو مد نظر رکھتے ہوئے کم از کم چارہزار روپے فی من پُھٹی اور اور پچیس صد روپے من سپر قسم مُنجی کے ریٹس کا تعین کر دینا چاہیئے جبکہ ایری اقسام منجی پندرہ صد روپے فی من سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔ موجودہ حکومت نے اپنے موجودہ دور میں گنے کی قیمت کو جُوں کا تُوں رکھا جو کہ سراسر بے رحمی اور زیادتی ھے۔ گنے کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور کسان کی زندگی اسودہ کرنے کیلئے ابھی سے اسکا فِیوچر ریٹ طے کر دینا چاہیئے جو کسی طرح بھی دوسو پچاس روپے فی من سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
4- ایک اور اھم مسلہ بیج ، کھاد اور زرعی ادویات کی آلائشوں سے پاک اور ملاوٹ سے مُبرا فراہمی کا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ہر شعبہ مشکوک ہے ماسوائے مختصر مُستٙثنِیات کے۔ اگر حکومت حقائق فہمی کیلئے موثر خفیہ ذرائع کے توسط سے سروے کرائے تو بڑی ہولناک تصویر سامنے آئے گی۔ گنتی کے چند افراد سے قطعء نظر، زراعت کا شعبہ بُری طرح بدنام اور داغدار ہے۔ سپروائزروں سے ضلعی سطح کے افسران تک زرعی اسٹیبلشمنٹ کا بیشتر حصہ کرپٹ ہے۔ انکی کرپشن کی متعدد صورتیں ہیں۔ یہ عوام کی خدمت کم، اپنی توند تجوریوں کی فلنگ کیلئے زیادہ بے چین رھتے ہیں۔کسانوں کی مدد نہیں، کمپنیوں کی ایجنٹی کرتے ہیں۔ ملاوٹ میں ملوث کاروباری حلقوں کی گرفت کے بجائے واردات کا حصہ مانگتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ملنے والے منصوبوں اور گرانٹس پر ہاتھ کی صفائ دکھانے میں یدِ طُولی' رکھتے ہیں۔ ہر ضلع میں زرعی کاروبار سے وابستہ ہزارہا دکانداروں سے مل کر جعلی اور نقلی کھاد بیج، ادویات اور عوامل کے کاروبار میں سرکاری کارندے براہ راست ملوث ہوتے ہیں۔ دکانداروں سے مٙنتھلیاں وصول کرنا گویا انکا حقِ منصبی ھے۔ مختلف طریقوں اور فرمائشوں سے اہلکارانِ زراعت دکانداروں کی کھال ادھیڑتے ہیں اور دکاندار مافیا ملاوٹ، مکروفریب اور جعلسازیوں کے ذریعے سادہ لوح کسانوں کا خون چوستا ھے۔ انجامِ کار ساری صورتحال کا نٙزلہ زراعت پر گرتا ھے۔ زراعت سُدھار اور کسان خیال حکومت ، جو بھی ہو، زراعت کو دیمک کیطرح چاٹنے والے اس مافیا کا قٙلع قٙمع کرنے میں ہرگز نرمی اختیار نہیں کرنی چاہیئے۔ حاصلِ نکتہ یہ ھے کہ خالص بیج کھاد اور ملاوٹ سے مُنزٙہ زرعی ادویات کے بغیر زراعت کا پِنٙپنا اور پٙروان چڑھنا ناممکن ھے۔۔۔اور زراعت کے ارتقا اور عروج کے بغیر ملک میں خوشحالی اور ترقی کا تصور ایک موہوم خواب سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
یاد رکھئے، متذکرہ گزارشات تاخیر کی متحمل نہیں، حکومت کو بسُرعت مداخلت اور مداوے کی فکر کرنی چاہیئے۔
5- سالانہ بجٹ کی تشکیل اور تدوین کا کام بھی شروع ہو چکا ھے۔ مناسب ہو گا کہ زراعت سے وابستہ ماھرینِ معیشت ، پریکٹیکل زمینداروں اور کاشتکاروں سے تبادلہ خیال اور مشوروں کو عمل میں لایا جائے۔ گزشتہ چار سال کے دوران زرعی شعبہ کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، اس کا ٹھوس اور محسوس کن انداز سے ازالہ کیا جانا چاہئے۔ دیہات میں پھیلتی ہوئ آبادی کو در پیش سب سے بڑا مسلہ بیروزگاری کا ھے اور بیروز گاری ہی نوجوانوں کو ماحول سے سٙرکٙشی، اٙقدار سے بغاوت اور معاشرتی برائیوں کے ارتکاب کیطرف راغب کر رہی ھے۔ تلاش روزگار میں لاکھوں نوجوان آبائ مسکن سے شہروں کی طرف مائگریٹ ہو رھے ہیں جو بذات خود بے شمار مسائل اور مشکلات پیدا کر دینے والا ایک بہت بڑا سماجی مسلہ ھے ۔ سرکاری ملازمتیں اتنی ہیں نہیں کہ اس قدر بیروزگار بھاری تعداد کو مطمئن کیا جا سکے۔ واحد کار گر اور تِیر بٙہدف اقدام زراعت یعنی کھیتی باڑی، باغبانی، لائیوسٹاک، شجر کاری اور ان سرگرمیوں سے منسلک انگنت کاروبار مثلا" ھنر مندی ، زرعی مشینری کے آپریشن پر دسترس ، مشینوں کے استعمال کیلئے آپریٹرز، ٹریکٹرز ڈرائیورز، ورکشاپس، زرعی کمپنیوں کیطرف میلان، زرعی کارکن، فیلڈ ورکرز ، نیز زرعی طرز کے بزنس یعنی کھاد بیج ، زرعی ادویات اور زرعی مشینری سے متعلقہ سپئرز پارٹس کی شاپس وغیرہ جیسےشعبوں کیطرف ترغیب اور رحجان پیدا کرنے کا ھے یعنی بحیثیت مجموعی آپ دیہی آبادیوں کیلئے زراعت کو بہت زیادہ پرکشش اور منافع بخش بنا دیں، فراخدلی سے بلا سود یا بہت کم سود پر قرضے فراہم کریں تاکہ وہ ہر طرح کے احساسِ محرومی سے ماورا ہو کر نہایت اطمینان اور سکونِ قلب کے ساتھ زرعی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔حقیقت یہ ھے کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ھے ساقی۔
25th April, 2017.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:غلام مصطفی خان میرانی
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور خادم اعلی' پنجاب محمد شہباز شریف, جب تک اپنے اپنے مناصب اور ذمہ داریوں پر فائز ہیں، انہیں چاہیئے کہ پاناما متعلقات اور سیاسی محاذ پر جاری قیل وقال سے وقت نکال کر، کچھ توجہ قومی فرائض اور منصبی وظائف کی طرف بھی دیں کیونکہ " اور بھی غم ہیں زمانے میں 'محبت' کے سوا "
اندرون ملک در پیش چیلنجز اور بین الاقوامی افق پر سلگتے ہوئے مسائل، تساہل اور غفلت کے متحمل نہیں۔ حالات قومی قیادت اور عنان سلطنت کے سواروں سے چشم کشائ اور چابکدستی کا تقاضا کرتے ہیں ورنہ لمحوں کی خطا، صدیوں کے خوفناک خمیازے کا سبب بن سکتی ھے اور مکافات عمل کے قدرتی نظام سے کسی کو رستگاری حاصل نہیں۔
دیہات میں مقیم ملک کی خاموش مگر فیصلہ کن آبادی پر، اس وقت، محرومیوں، مصائب اور مسلسل استحصال سے جو قیامت بیت رہی ھے۔، محتاج وضاحت نہیں۔ بڑے دکھ اور دردمندی کے ساتھ حقائق کی اساس اور شواہد کی بنیاد پر پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ زراعت پر انحصار کرنے والے ملک کے دیہات، جو کم وبیش ستر فیصد آبادی پر محیط ہیں، کس طرح کٙسمپرسی اور زبوں حالی سے دو چار ہیں۔ ان کے مسائل اور مشکلات سے لاپروا حکومت کا حال اگر یہی رہا، اپنا رویہ بدلا نہ دھقان دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کی تو پھر عیاں را چہ بیاں ، 2018 کا سال حکمران جماعت کیلئے زوال اور وبال بن کر اترے گا اور فطرت عبرتناک مناظر پیش کرے گی۔ یہ نوشتہء دیوار ھے !
ہر چند کہ نمائش اور ظواہر پر مبنی کچھ اعلانات ہوئے ، اقدامات کا ڈھول پیٹا گیا۔ زمینی حقائق کے علی الرغم مُژدے سنائے اور مجسم درغ گوئ پر زرق برق سے آراستہ پٙیرھن چڑھانے میں بھی کوئ دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا، ستم پر ستم تو یہ ہے کہ داد طلب ترنگ میں قوم کا کثیر سرمایہ میڈیا مالکان کی خوشنودی پر وار دیا اور اپنے بے سروپا کارناموں کی تشہیر شروع کر دی۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری ھے جو در حقیقت خیانت ،خویش پروری اور مبالغہ آرائ کا بڑا گمراہ کن اور شرمناک شغل ھے مگر حاصل کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں ، حقائق سے آشنا اور حالات سے باخبر عوام میں الٹا پھبتیوں اور ٹھٹھے بازی کا ردعمل سامنے آیا۔ تلخ حقیقت یہ ھے کہ آپ کے اٙزمنہء اقتدار میں، ہر دور زراعت کیلئے نامسعود اور تباہ کن ثابت ہوا۔ ملک کے طول وعرض میں سنائ دینے والی یہی آواز ، دراصل آواز خلق ھے اور یہی نقارہء خدا ۔
ہم جانتے ہیں، زراعت جو قومی معیشت کیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے، حالت نٙزع میں ھے اور کسان جو اقتصادی سرگرمیوں میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتا ھے، بدترین ابتری اور بدحالی کا سامنا کر رہا ھے۔ اس ہولناک حالت اور لرزہ خیز انجام کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں، حکمرانوں کی بےاعتنائ اور انکے نالائق مشیروں کے طرزعمل پر عائد ہوتی ھے۔ مسند نشینوں اور انکے مداحوں سے معذرت کے ساتھ ایک التماس ھے کہ اس گزارش اور بیانئے کو مبالغہ آرائی یا متعصبانہ مفروضوں پر محمول نہ کیجئے گا۔ بخدا ہرگز ایسا نہیں۔ آپ خلاوءں او خیالوں کی پرواز سے اتر کر، قدرے نیچے نگاہ ڈالیں، حقائق کے ہیولے آپ کا تمسخر اڑا رھے ہیں۔ اب بھی وقت ھے، قصہء زمین، برسر زمیں سننے ، سمجھنے اور سلجھانے کی کوشش کریں۔ ایسے اقدام اور عمل میں دھرا مفاد اور مصلحت پنہاں ہیں۔ ملک اور آبادی کے معاشی مفادات کیلئے موزوں اور آپ کا سیاسی مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا۔ مبادا کہ آپ راقم کو کسی مخالف محاذ سے موسوم کرتے ہوئے گزارشات کو نظر انداز کر دیں۔ ایسا ہرگز نہیں ۔ یہ مثبت سوچ کے حامل، ایک خیرخواہ شہری کا مخلصانہ مشورہ ھے۔ آپ خوش آمدیوں کے حصار سے باہر نکلیں اور خلق خدا کی صدائے بازگشت سنیں۔ چاق چوبند اور ھمہ وقت متحرک بہت سے بے ضمیر مقربین اور مفاد پرست مصاحبین آپ کے گرد ہالہ بنائے دکھائ دیتے ہیں تو قلق اور کسک کی کیفیت محسوس ہوتی ھے۔ یہ چاپلوس اور چرب زبان مُشاق دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں جب آپ کو " سب اچھا " کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ سچائ یہ ھے کہ زرعی آبادی کا بیشتر حصہ آپ سے نالاں ھے۔ گاوءں کی گراں بار زندگی، آپ کیلئے سرگرانی کا سبب بنتی نظر آ رہی ھے۔ کوئ سال بھر مدت بیت چلی جب زراعت، صحت، تعلیم اور سماجی مسائل پر سلسلہ وار مفصل تحریروں اور تجاویز پر مشتمل مضامین کے ذریعے جناب کی توجہ کا خواستگار ہوا تھا اور عرض کیا تھا کہ وقت رائیگاں پر رونے دھونے کے بجائے، دستیاب مہلت سے مستفید ہونے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ قوم کی طرف سے سپرد شدہ بارِ امانت، اقتضائے دیانت اور اقدامات و مساعی کا متقاضی ھے۔ خصوصا" زراعت کے ضمن میں " جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی" عنوان کے تحت ایک جامع مضمون کے توسط سے تجزیہ اور تجاویز نذرِ التفات کی تھیں۔ اس لئے کہ ملک کی ستر فیصد آبادی صُمم بُکم ضرور ھے مگر اشک و آہ کے پیدا کرنے والی قوتوں، یعنی قلب و نگاہ، سے محروم نہیں مگر افسوس کہ روم جلتا رہا اور نیرو بانسری کے سُر تال سے فرصت نہ پا سکا۔ اوپر پاناما کی کہانی کا غلغلہ عود آیا جو کسی نے نوحہ اور کسی نے قوالی کے انداز میں پیش کیا۔ ماتم مرثئے اور شور و غل کی ایسی فضا میں قومی مسائل دُھندلا گئے !
زبوں حال زراعت کے ضمن میں آج ایک بار پھر دو تین سلگتے معاملات نشاندہی پر اکسا رھے ہیں کاش کہ آپ پڑھ سکیں اور موزوں مگر مستعدی سے اقدامات لینے کیلئے کچھ وقت نکال پائیں۔
1-گزشتہ برسوں کے دوران، گندم، کپاس اور چاول کے فصلات اور پیدواروں کا جو حشرنشر ہوا، استحصالی مافیا شادباد اور کسان برباد ہوا۔ خسارے اور خستگی کے مارے ہوئے کسان نے، متبادل کے طور پر کماد کی کاشت کا سہارا لیا۔ نتجتہ" اس سال کماد کراپ غالب رہی مگر معاملہ آسمان سے گرا کھجور پہ اٹکا، مقولے پر منتج ہوا۔
شوگر ملز کے مالکان نے بےبس اور مجبور حال کسان کو جنگلی گِدھوں کی طرح نوچا۔ سب جانتے ہیں کہ شوگر ملوں کے مالکان کی کثیر تعداد حکومت کا حصہ ھے یا طاقتور اپوزیشن کی مسند پر براجمان۔ کیا مجال کہ انسان نما ان وحشی درندوں پر کوئ ہاتھ ڈال سکے۔ مختلف حیلے بہانوں سے کسانوں کی گنا ترسیلات سے من مانے مقدار میں کٹوتیاں کی گئیں۔ واردات کا یہ وتیرہ چوری نہیں، سینہ زوری اور راہزنی کے ارتکاب کے مترادف ھے۔ حکومت اور کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ادارے یکسر بےحس اور غیر متعلق رہے۔ حیرت تو انقلاب اور انصاف کے داعی جناب عمران خان اور کےپی کے حکومت کی بے حسی پر ھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں واقع شوگر ملوں میں دیدہ دلیری سے کسانوں کا استحصال کیا جاتا رہا۔ جی بھر کر گنے سے بھرے ٹرک اور ٹرالیوں پر کٹوتیاں لگائ گئیں۔ یہاں تک کہ تیس چالیس فیصد تک کاٹ لگا لینا مشغلہء مرغوب بن گیا۔ کسان قربانی کے جانوروں کی طرح قصائیوں کے ہاتھ چڑھ گیا اور کسی کو استفسار و احتساب کا یارا نہ رہا۔ یہ کٹوتیاں سی پی آرز یا کسی اور ریکارڈ میں ظاھر نہیں کرتے تھے۔ کنڈے تول پر کھڑے کھڑے پانچ سو وزن گنے کو اڑھائ سو من تک لکھ دینا اور دوسو پچاس من وزن گنے کا وزن، ڈیڑھ پونے دو سو من تک درج کر دینا معمول بن گیا۔ کسان بے چارا کیا کر سکتا ھے۔ پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق مرتا، کیا نہ کرتا، کربناک شکنجے میں جکڑا رہا۔ طوہا" کرہا" قبول کر لینے کے علاوہ سامنے کوئ متبادل راستہ بھی نہیں تھا۔ اندھی کٹوتی کے خلاف معمولی سے اعتراض یا احتجاج پر لوڈڈ گاڑی کو مل سے باہر نکال دیا جاتا رہا۔ کیا کسانوں پر بیتی اس سرگزشت کا کوئ ادارہ نوٹس لے گا؟
دوسری اہم بات بر وقت ادائیگیوں سے دانستہ اغماض اور لیت و لعل کی ھے۔ ملز کی طرف سے ادائیگی میں ایک ایک یا دو دو ماہ مدت تاخیر کا کیا جواز ھے ؟ قرضوں کی ادائیگی، اگلی فصل کی تیاری اور ضروریات روزمرہ سے آبرومندانہ طریقے سے نمٹنے کا حق ملز مالکان کیوں غصب کر لیتے ہیں ؟ ایک اور مکروہ دھندہ کا تذکرہ بھی برمحل اور ضرور محسوس ہو رہا ھے۔ملز مالکان یا انکی کرپٹ انتظامیہ نے باہر بروکرز بٹھا رکھے ہوتے ہیں جو کسانوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں۔ 180 روپے فی من مقرر شدہ قیمت گنا کو ڈیڑہ سو یا ایک سو ساٹھ روپے فی من خرید کر فورا" ادئیگی کر دیتے ہیں۔ استحصال، بددیانتی اور لوٹ مار کا یہ غلیظ کاروبا پورا سیزن سر عام جاری رھتا ھے۔ کسانوں کی کثیر تعداد تاخیر برداشت کرنے کی طاقت سے قاصر ہوتی ھے لہذا کُند چھری تلے گردن رکھنے پر مجبور ہو جاتی ھے۔
تیسرا اھم مسلہ جو حکومت اور اس شعبہ کی اتھاریٹیز کی فوری توجہ کا متقاضی ھے۔ ملز مالکان نے اس سال بد دیانتی اور استحصالی طریقوں سے تجوریاں خوب بھر لی ہیں۔ بیشترز نے اپنی ملیں اب بند کر دی ہیں اور باقی اگلے ایک دو روز میں بند کرنے والے ہیں۔ بھونڈا بہانہ یہ پیش کیا جا رہا ھے کہ گنے میں رٙس کم رہ گیا ھے حالانکہ اس بہانے کی آڑ میں بڑی بھاری کٹوتیاں بھی لگا رھے ہیں۔ عملا" صورتحال یہ ھے کہ ابھی تک وسیع رقبوں پر گنے کی فصل کھڑی ھے۔ گندم کی کٹائ نے کسانوں کو دشواری میں ڈال دیا ھے۔ لیبر تقسیم ہونے سے گنے کی کٹائ بری طرح متاثر ہوئ۔ دریں حالات اگر ملیں بند کر دی گئیں تو گنے کے کاشتکاروں کو ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ منطقی طور پر قومی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑیں گے مگر متاثرہ کسانوں کا کچومر نکل جائے گا۔ وزیر اعظم اور متعلقہ وزرائے اعلی' کو فورا" نوٹس لیتے ہوئے تدارکی انتظامات کرنے چاھئیں۔ جب تک گنے کی کٹائ مکمل نہیں ہو جاتی، شوگرملز مالکان کو پابند کیا جائے کہ ملیں چالو رکھیں اور کٹوتی نہ کریں۔ گنا سپلائ کی قلت کے باعث، مسلسل نہیں تو حسب روایت ملز آپریشن کیلئے وقفوں کے ساتھ ٹائم ٹیبل بنا دیں۔ یہ ایک سنجیدہ اور گمبھیر مسلہ ھے جسے نظراندز کرنا مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کاشتکار سخت پریشان ہیں۔صٙرفِ نظر کرنے سے کسان کنگال اور بد حال ہو جائے گا۔
2۔۔۔ دوسرا اھم مسلہ سرکاری سطح پر گندم خریداری کا ھے۔ دانہ دانہ اٹھانے کا ڈرامہ کرنے والوں نے ابھی تک خرید کا باقاعدہ آغاز ہی نہیں کیا جبکہ کٹائ شروع ہوئے دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ھے۔ گندم کی ڈھیریاں کھلے آسمان تلے کھیتوں میں بھکری پڑی ہیں۔ عام مارکیٹ میں مجبور اور مقروض حال کسان ایک ہزار سے گیارہ سو روپے فی من گندم بیچنے پر مجبور ھے۔ سرکاری ریٹ 1300 روپے فی من ھے۔ کس قدر تاسُف خیز صورتحال ھے کہ قنوطیت کا مارا کسان600 /550 روپے فی بوری خسارے پر گندم کے سودے کرتا نظر آتا ھے۔
فوڈ سنٹروں پر "فرعونوں اور فسادیوں" کا راج ھے۔ ہر شخص اپنے مفاد کے مدار پر گھوم رہا ھے۔ انتظامیہ کی خود سٙری اور نمائش و زیبائش کی جلوہ آرائ میں کوئ کمی دکھائ دیتی ھے نہ ہر بار و برس کی مانند آڑھتیوں، کمیشن خوروں، دلالوں اور دبڑگھسڑ گروہوں کا فقدان ھے۔ جینوئن کاشتکار جوتے کھا رھے ہیں۔ باردانہ اجرا کی پالیسی نہایت ناقص، بیہودہ اور سرکار سر پرستی میں چلنے والے کرپشن گھر چلانے کا گڑھ محسوس ہوتی ھے۔ جینوئن کاشتکار محروم جبکہ آڑھتی اور لوٹ مار مافیا ہر سنٹر پر غالب و غاصب بنا دکھائ دیتا ھے۔ جس کی دو ایکڑ زمین بھی نہیں، کسی نوسر باز کی سرپرستی میں اقارب کے درجنوں شناختی کارڈز اٹھائے سینکڑوں بوریوں کا بار دانا لے رہا ھے۔ چٙمار و کُمہار پیشے سے منسلک اشخاص، جو حقیقت میں مرلہ بھر کاشت کے شواہد سے بھی تہی دست ہیں، جعلی گرداوریوں اور مصنوعی دستاویز کے بل بوتے پر باردانہ لیتے اور پھر معقول منافع پر فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ مافیا مذکور یہ باردانہ، دس ہزار سے بیس ہزار روپے فی سینکڑا، ان صحیح اور جینوئن کاشتکاروں کو فروخت کرتا ھے جو خود براہ راست حق رسی اور انصاف یابی سے محروم ہیں ۔ ہر سنٹر پر یہ مافیا مہم جوئ اور انتظامیہ کی چاپلوسی میں منہمک و مصروف نظر آتا ھے۔ یہ ایسے عیار ڈاکو ہیں جو سنٹر کو چلانے والے عملہ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں کمیشن کے نام پر رشوت دیتے ہیں۔ کھانے کھلاتے ہیں، گھروں میں تحفے تحائف پہنچاتے ہیں اور اپنا " معاوضہ" فوڈ سنٹروں پر باردانہ کی شکل میں وصول کرتے ہیں۔
کہیں بھی جا کر ملاحظہ فرما لیں ، ہر سنٹر پر حکومت کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔ اصل کاشتکاروں کا مقدر سارا سارا دن قطاروں میں کھڑے رہنا اور ذلتیں اٹھانا ھے اور ہشاش بشاش مافیا موجیں اڑا رہا ہوتا ھے۔
حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاھئیں جس نے کسان کی بے چینی اور بربادی سے کہیں زیادہ اپنے لیئے بدنامی اور حقارت کا ماحول پیدا کر دیا ھے۔ حکومت مخالفت کیلئے کسی اپوزیشن یا مخالف محاذ کی ضرورت نہیں، تزلزل اور تنزلی کیلئے، بدنامی کے یہ منابع جاریہ ہی کافی ہیں۔
اگر حکومت کسان کئر اور دھقان داتاپٙن پالیسی بنانے میں مخلص اور سنجیدہ ھے تو گندم خریدنے کی تحریک اور ترکیب میں تبدیلی لائے۔ کسانوں کی عزت نفس اور توقیر کو داؤ پر نہ لگایا جائے۔ دھکم پیل، ذلت و رسوائ اور انتظار و اضطراب سے فلاح و فرحت کا نزول نہیں، سماجی سکون تلپٹ اور تباہ ہونا شروع ہو جاتا ھے۔ معروضات کا ماحٙصل یہ ھے کہ جس طرح بھی ممکن ہو سکے، حکومت کسانوں سے سالم گندم اٹھانے کا پیمان اور اعلان کرے، پھر سختی سے عمل پیرا ہو جائے۔ اب تو حالت بااینجا رسید کہ گندم کھیتوں میں موسم کے رحم وکرم پر اور کسان فوڈ سنٹروں پر ذلتوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ یہ جملہ منظر ، حکومت کیلئے گاؤں گاؤں اور شہر شہر سجائے گئے نفرتوں کے مراکز کی صورتحال پیش کر رہا ہے !!!
3- تیسری اہم بات کپاس اور چاول کے فصلات کے بارے میں ھے۔ دونوں اہم کراپس کا موسم شروع ہو چکا ھے۔ گندم بیچنے کیلئے فوڈ سنٹروں پر خوار ہوتے کسان، کپاس اور مُنجی کے مستقبل سے شدید مایوس ہیں۔ ماضی کے مکروہ مُجرِبات و مناظر اور حال کے تُرش وتلخ تجربات نے کسان کو زراعت سے متنفر کر دیا ھے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ھے اور درپیش صورت احوال المیہ سے کم نہیں۔ کسان کی ڈھارس اور اِیقان کیلئے لازم ہے کہ حکومت فوری طور پر کپاس اور چاول کی امدادی قیمتوں کا اعلان کرے۔ اس ضمن میں تمام دشواریوں کے ازالہ اور ناگزیر ضروریات میں بھر پور استعانت کا اہتمام کرے۔ مٙصارف کو مد نظر رکھتے ہوئے کم از کم چارہزار روپے فی من پُھٹی اور اور پچیس صد روپے من سپر قسم مُنجی کے ریٹس کا تعین کر دینا چاہیئے جبکہ ایری اقسام منجی پندرہ صد روپے فی من سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔ موجودہ حکومت نے اپنے موجودہ دور میں گنے کی قیمت کو جُوں کا تُوں رکھا جو کہ سراسر بے رحمی اور زیادتی ھے۔ گنے کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور کسان کی زندگی اسودہ کرنے کیلئے ابھی سے اسکا فِیوچر ریٹ طے کر دینا چاہیئے جو کسی طرح بھی دوسو پچاس روپے فی من سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
4- ایک اور اھم مسلہ بیج ، کھاد اور زرعی ادویات کی آلائشوں سے پاک اور ملاوٹ سے مُبرا فراہمی کا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ہر شعبہ مشکوک ہے ماسوائے مختصر مُستٙثنِیات کے۔ اگر حکومت حقائق فہمی کیلئے موثر خفیہ ذرائع کے توسط سے سروے کرائے تو بڑی ہولناک تصویر سامنے آئے گی۔ گنتی کے چند افراد سے قطعء نظر، زراعت کا شعبہ بُری طرح بدنام اور داغدار ہے۔ سپروائزروں سے ضلعی سطح کے افسران تک زرعی اسٹیبلشمنٹ کا بیشتر حصہ کرپٹ ہے۔ انکی کرپشن کی متعدد صورتیں ہیں۔ یہ عوام کی خدمت کم، اپنی توند تجوریوں کی فلنگ کیلئے زیادہ بے چین رھتے ہیں۔کسانوں کی مدد نہیں، کمپنیوں کی ایجنٹی کرتے ہیں۔ ملاوٹ میں ملوث کاروباری حلقوں کی گرفت کے بجائے واردات کا حصہ مانگتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ملنے والے منصوبوں اور گرانٹس پر ہاتھ کی صفائ دکھانے میں یدِ طُولی' رکھتے ہیں۔ ہر ضلع میں زرعی کاروبار سے وابستہ ہزارہا دکانداروں سے مل کر جعلی اور نقلی کھاد بیج، ادویات اور عوامل کے کاروبار میں سرکاری کارندے براہ راست ملوث ہوتے ہیں۔ دکانداروں سے مٙنتھلیاں وصول کرنا گویا انکا حقِ منصبی ھے۔ مختلف طریقوں اور فرمائشوں سے اہلکارانِ زراعت دکانداروں کی کھال ادھیڑتے ہیں اور دکاندار مافیا ملاوٹ، مکروفریب اور جعلسازیوں کے ذریعے سادہ لوح کسانوں کا خون چوستا ھے۔ انجامِ کار ساری صورتحال کا نٙزلہ زراعت پر گرتا ھے۔ زراعت سُدھار اور کسان خیال حکومت ، جو بھی ہو، زراعت کو دیمک کیطرح چاٹنے والے اس مافیا کا قٙلع قٙمع کرنے میں ہرگز نرمی اختیار نہیں کرنی چاہیئے۔ حاصلِ نکتہ یہ ھے کہ خالص بیج کھاد اور ملاوٹ سے مُنزٙہ زرعی ادویات کے بغیر زراعت کا پِنٙپنا اور پٙروان چڑھنا ناممکن ھے۔۔۔اور زراعت کے ارتقا اور عروج کے بغیر ملک میں خوشحالی اور ترقی کا تصور ایک موہوم خواب سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
یاد رکھئے، متذکرہ گزارشات تاخیر کی متحمل نہیں، حکومت کو بسُرعت مداخلت اور مداوے کی فکر کرنی چاہیئے۔
5- سالانہ بجٹ کی تشکیل اور تدوین کا کام بھی شروع ہو چکا ھے۔ مناسب ہو گا کہ زراعت سے وابستہ ماھرینِ معیشت ، پریکٹیکل زمینداروں اور کاشتکاروں سے تبادلہ خیال اور مشوروں کو عمل میں لایا جائے۔ گزشتہ چار سال کے دوران زرعی شعبہ کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، اس کا ٹھوس اور محسوس کن انداز سے ازالہ کیا جانا چاہئے۔ دیہات میں پھیلتی ہوئ آبادی کو در پیش سب سے بڑا مسلہ بیروزگاری کا ھے اور بیروز گاری ہی نوجوانوں کو ماحول سے سٙرکٙشی، اٙقدار سے بغاوت اور معاشرتی برائیوں کے ارتکاب کیطرف راغب کر رہی ھے۔ تلاش روزگار میں لاکھوں نوجوان آبائ مسکن سے شہروں کی طرف مائگریٹ ہو رھے ہیں جو بذات خود بے شمار مسائل اور مشکلات پیدا کر دینے والا ایک بہت بڑا سماجی مسلہ ھے ۔ سرکاری ملازمتیں اتنی ہیں نہیں کہ اس قدر بیروزگار بھاری تعداد کو مطمئن کیا جا سکے۔ واحد کار گر اور تِیر بٙہدف اقدام زراعت یعنی کھیتی باڑی، باغبانی، لائیوسٹاک، شجر کاری اور ان سرگرمیوں سے منسلک انگنت کاروبار مثلا" ھنر مندی ، زرعی مشینری کے آپریشن پر دسترس ، مشینوں کے استعمال کیلئے آپریٹرز، ٹریکٹرز ڈرائیورز، ورکشاپس، زرعی کمپنیوں کیطرف میلان، زرعی کارکن، فیلڈ ورکرز ، نیز زرعی طرز کے بزنس یعنی کھاد بیج ، زرعی ادویات اور زرعی مشینری سے متعلقہ سپئرز پارٹس کی شاپس وغیرہ جیسےشعبوں کیطرف ترغیب اور رحجان پیدا کرنے کا ھے یعنی بحیثیت مجموعی آپ دیہی آبادیوں کیلئے زراعت کو بہت زیادہ پرکشش اور منافع بخش بنا دیں، فراخدلی سے بلا سود یا بہت کم سود پر قرضے فراہم کریں تاکہ وہ ہر طرح کے احساسِ محرومی سے ماورا ہو کر نہایت اطمینان اور سکونِ قلب کے ساتھ زرعی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔حقیقت یہ ھے کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ھے ساقی۔
25th April, 2017.
0 تبصرے