اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم 6رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی آج سے کام کا آغاز کریگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا ءکی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی آج سے اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کررہی ہے جو 2ماہ میں اپنی رپورٹ مکمل کر کے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کریگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرارمحمد علی پہلے اجلاس میں پاناما کیس کے عدالتی فیصلے اورعدالت میں پیش کردہ ریکارڈ جے آئی ٹی کے سپرد کریںگے اور ٹیم کوکیس سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دیں گے۔
ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن میں اس کے ٹی او آرز بھی درج کیے گئے ہیں اور تحقیقات کے لیے ٹائم فریم بھی مقرر کیا گیا ہے، جے آئی ٹی ان شخصیات کو بھی طلب کریگی جن پرالزامات عائدکیے گئے ہیں جبکہ بیرون ملک موجود سرمائے کی منتقلی سے متعلق شواہد تلاش کیے جائیں گے اور قطر سمیت دیگر ممالک سے رابطہ کر کے وہاں کی گئی سرمایہ کاری سے متعلق بھی شواہد کی فراہمی درخواست کی جائیگی۔
واضح رہے کہ جے آئی ٹی روزانہ کی بنیاد پراپنا کام کرے گی اور اس کے تمام اجلاس اور کارروائی ان کیمرہ ہوگی۔ ملک کے تمام اداروں، وزارتوں اور ڈویژنوں کو جے آئی ٹی کے ساتھ پاناما کیس کی تحقیقات میں تعاون کا کہا گہا ہے جبکہ فنڈزبھی فراہم کردیے گیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا ءکی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی آج سے اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کررہی ہے جو 2ماہ میں اپنی رپورٹ مکمل کر کے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کریگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرارمحمد علی پہلے اجلاس میں پاناما کیس کے عدالتی فیصلے اورعدالت میں پیش کردہ ریکارڈ جے آئی ٹی کے سپرد کریںگے اور ٹیم کوکیس سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دیں گے۔
ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن میں اس کے ٹی او آرز بھی درج کیے گئے ہیں اور تحقیقات کے لیے ٹائم فریم بھی مقرر کیا گیا ہے، جے آئی ٹی ان شخصیات کو بھی طلب کریگی جن پرالزامات عائدکیے گئے ہیں جبکہ بیرون ملک موجود سرمائے کی منتقلی سے متعلق شواہد تلاش کیے جائیں گے اور قطر سمیت دیگر ممالک سے رابطہ کر کے وہاں کی گئی سرمایہ کاری سے متعلق بھی شواہد کی فراہمی درخواست کی جائیگی۔
واضح رہے کہ جے آئی ٹی روزانہ کی بنیاد پراپنا کام کرے گی اور اس کے تمام اجلاس اور کارروائی ان کیمرہ ہوگی۔ ملک کے تمام اداروں، وزارتوں اور ڈویژنوں کو جے آئی ٹی کے ساتھ پاناما کیس کی تحقیقات میں تعاون کا کہا گہا ہے جبکہ فنڈزبھی فراہم کردیے گیے ہیں۔




0 تبصرے